آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد حسین بہشتی

انسان کے اندر مثبت و منفی قوتیں

فکر و نظر: محمد حسین بہشتی

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت کے ساتھ پیدا فرمایا اور اس کے اندر مختلف قسم کی قوتیں، صلاحیتیں اور توانائیاں ودیعت کیں۔ ان میں مثبت اور بظاہر منفی سمجھی جانے والی قوتیں دونوں شامل ہیں۔ درحقیقت یہ تمام قوتیں اپنی اصل میں نعمت ہیں، مگر ان کا درست یا غلط استعمال ہی انسان کی کامیابی یا تباہی کا سبب بنتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا”
(سورۃ الشمس: 7-8)
یعنی اللہ نے نفس کو درست بنایا اور اسے نیکی و بدی دونوں کی پہچان عطا کی۔
طاقت، اقتدار، شہوت، غضب اور خواہشات یہ سب انسان کی فطری قوتیں ہیں۔ اگر طاقت کو عدل و حق کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی طاقت انسان کو عادل حکمران بناتی ہے، اور اگر اسے ظلم کے لیے بروئے کار لایا جائے تو یہی قوت فرعونیت کو جنم دیتی ہے۔ اسی طرح شہوت اللہ کی عظیم نعمت ہے جو نسلِ انسانی کے بقا کا ذریعہ ہے، لیکن جب یہی شہوت حدودِ شرع سے تجاوز کر جائے، حرام کاموں میں استعمال ہو یا بے لگام ہو جائے تو انسان کے لیے تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"أفضل الجهاد جهاد النفس”
(سب سے بڑا جہاد اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے)
یعنی انسان کی اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ وہ اپنی اندرونی قوتوں کو قابو میں رکھے۔
اسلام نہ تو خواہشات کو مکمل طور پر دبانے کا حکم دیتا ہے اور نہ ہی انہیں آزاد چھوڑنے کی اجازت دیتا ہے، بلکہ اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اسی اصول کو یوں بیان کیا گیا:
"وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا”
(سورۃ البقرۃ: 143)
یعنی تمہیں درمیانی امت بنایا گیا ہے۔
اگر انسان اپنی مثبت و منفی صلاحیتوں کو عقل، تقویٰ اور شریعت کی روشنی میں کنٹرول میں رکھے تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے، اور اگر ان قوتوں کو بے لگام چھوڑ دے تو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت باقی نہیں رہتی، انسان خود ہی اپنی ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن و سنت ہمیں یہی پیغام دیتے ہیں کہ انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرے، اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اللہ کی عطا کردہ قوتوں کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرے جس کے لیے وہ دی گئی ہیں، کیونکہ اسی میں فلاح اور نجات ہے۔

محمد حسین بہشتی

post bar salamurdu

محمد حسین بہشتی

نام : محمد حسین بہشتی پیدائش : 1969م سندوس سکردو ابتدائی تعلیم : سندوس سکردو اعلی تعلیم : گر یجو یشن کراچی یونیورسٹی شغل : تحقیق (ریسرچ سیکا لر )( اب تک 200 سو مقالہ اور 25 کتابیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button