آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا
بیکار اک چراغ ہے ضد پر اڑا ہوا

اچھا ہوا کہ پھیر لیں آنکھیں کسی نے دوست
ورنہ اترنا کب تھا یہ نشہ چڑھا ہوا

کیا وقت میرے ساتھ کوئی چال چل گیا؟
میرا ہی سایہ میرے مقابل کھڑا ہوا

خوشبو کے شب کدوں کی کہانی نہ کہہ سکا
صبحِ بدن کی شاخ سے اک گل جھڑا ہوا

ارشاد آسماں کو بھی اب سرخ کر گیا
سورج کا امتحان کچھ ایسا کڑا ہوا

ارشاد نیازی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button