- Advertisement -

نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے

مبشر سعید کی ایک اردو غزل

نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے
تو مرے خواب میں آئے تو مزہ آ جائے

دشت میں شام ڈھلے،خیمہ وحشت کے تلے
ریت، حیرت کو سلائے تو مزہ آ جائے

دل کی دیوار پہ اُس شخص کی آواز سے میں
دیکھوں اظہار کے سائے تو مزہ آ جائے

شام کی نبض رکی، رات نے آنکھیں کھولیں
نیند اب تجھ سے ملائے تو مزہ آ جائے

آج بادل ہیں ،ستارے بھی چھُپے بیٹھے ہیں
رات اب ’ہیر‘ سنائے تو مزا آ جائے

میرے پہلو میں ہو درویش نگاہوں والی
وقت وہ پل بھی دکھائے تو مزہ آ جائے

جو پرندہ ترے آنے کی خبر دیتا ہے
وہ مجھے ڈھونڈ نہ پائے تو مزہ آ جائے

شام کے ساتھ برستی ہوئی حیرت میں سعید
وہ مرے ساتھ نہائے تو مزہ آ جائے

مبشّر سعید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ارشاد نیازی