بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات
منیب الرحمن عارفی کی ایک اردو تحریر
بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات والدین کے لیے سنجیدہ پیغام
ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سکون میں رہیں۔ جب وہ روتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ فوراً چپ ہو جائیں۔ جب ہم مصروف ہوں تو وہ خاموشی سے بیٹھے رہیں۔ اسی آسانی کے لیے ہم اکثر ان کے ہاتھ میں موبائل دے دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا حل لگتا ہے، مگر ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ خاموشی کس قیمت پر مل رہی ہے۔
آج کا بچہ اسکرین کے ساتھ بڑا ہو رہا ہے۔ موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ٹیکنالوجی بری چیز نہیں۔ اگر اسے صحیح حد میں اور نگرانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ سیکھنے اور سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب استعمال بے قابو ہو جائے۔
جب بچہ بار بار ویڈیوز، ریلز یا گیمز دیکھتا ہے تو اس کے دماغ میں خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ہر نئی ویڈیو اسے تھوڑی سی خوشی دیتی ہے۔ دماغ اس تیز رفتار عادت کا عادی ہو جاتا ہے۔ پھر آہستہ کام جیسے کتاب پڑھنا، ہوم ورک کرنا یا باہر کھیلنا اسے مشکل اور بور لگنے لگتے ہیں۔ وہ جلد اکتا جاتا ہے کیونکہ اس کا ذہن فوری لطف کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔
آہستہ آہستہ اس کی توجہ کمزور ہونے لگتی ہے۔ وہ بات پوری سننے سے پہلے ہی ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ معمولی بات پر غصہ آ جاتا ہے۔ بعض بچوں میں بے چینی اور چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے۔ کچھ بچے ہر وقت حرکت میں رہتے ہیں یا ایک جگہ نہیں بیٹھ پاتے۔ یہ علامات بعض اوقات اے ڈی ایچ ڈی جیسی کیفیت سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے، لیکن زیادہ اور مسلسل اسکرین ٹائم رویے اور توجہ پر اثر ڈال سکتا ہے۔
دماغ کا ایک حصہ جو صبر، سوچ اور خود پر قابو کو سنبھالتا ہے، بچپن میں تیزی سے بڑھتا ہے۔ اگر یہی وقت تیز رفتار اسکرین کے ساتھ گزر جائے تو بچہ انتظار کرنا کم سیکھتا ہے۔ اسے ہر چیز فوراً چاہیے ہوتی ہے۔ اگر چیز دیر سے ملے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ اس طرح صبر اور برداشت کمزور ہو سکتی ہے۔
ایک اور مسئلہ سماجی دوری کا ہے۔ جب بچہ دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے اکیلے موبائل مانگے، جب وہ گھر والوں کی بات میں دلچسپی نہ لے، جب نام لینے پر فوراً جواب نہ دے، تو یہ صرف مصروفیت نہیں ہوتی۔ یہ آہستہ آہستہ تعلقات سے دوری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ بچہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے بجائے اسکرین کے پیچھے رہنا پسند کرنے لگتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ موبائل خود دشمن نہیں ہے۔ اگر وقت مقرر ہو، مواد عمر کے مطابق ہو اور والدین ساتھ موجود ہوں تو فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ہر رونے کا حل موبائل ہو جائے تو بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ مشکل سے نمٹنے کے بجائے اسکرین میں پناہ لینا آسان ہے۔
والدین کا کام صرف روکنا نہیں بلکہ متبادل دینا بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچہ فون کم استعمال کرے تو ہمیں اس کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا۔ کہانی سنانا، پارک لے جانا، مل کر کھیلنا، کتاب پڑھنا، یہ سب چیزیں بچے کے دل اور دماغ کو مضبوط کرتی ہیں۔ بچہ صرف مصروف نہیں بلکہ جڑا ہوا ہونا چاہیے، اپنے گھر سے اور اپنے لوگوں سے۔
کچھ سادہ اصول بہت مددگار ہو سکتے ہیں۔ روزانہ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کریں۔ کھانے کے وقت فون بند رکھیں۔ سونے سے پہلے اسکرین استعمال نہ کریں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین خود بھی مثال بنیں۔ اگر ہم خود ہر وقت فون میں مصروف ہوں گے تو بچہ بھی یہی سیکھے گا۔
بچہ خاموش ہو جانا کامیابی نہیں ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ خوش ہو، بات کرنے والا ہو، کھیلنے والا ہو اور اپنی حقیقی دنیا سے جڑا ہوا ہو۔ اگر آج ہم آسانی کے لیے اسے اسکرین کے حوالے کر دیں گے تو کل اس کی توجہ واپس حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بچپن بنیاد ہے۔ مضبوط بنیاد کے لیے وقت، محبت اور رہنمائی ضروری ہے۔ ہمارے بچوں کو سب سے زیادہ ہماری موجودگی کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف ایک روشن اسکرین کی۔
منیب الرحمن عارفی







