آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے

ایک اردو غزل از اقبال طارق

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے
زندگی کا نصاب تھے جب تھے

اپنی اُنگلی پکڑ کے چلتے تھے
خود کو ہم دستیاب تھے جب تھے

اپنی آنکھوں میں اب کھٹکتے ہیں
چشمِ یاراں کاخواب تھے جب تھے

طاق ماضی کے یہ اداس دئیے
شوق میں آفتاب تھے جب تھے

اب میسر نہیں ہیں خود کو بھی
ہم ترے بے حساب تھے جب تھے

یہ جو آنکھیں بجھی بجھی ہیں ناں
ان میں بھی چند خواب تھے جب تھے

اب جو سُوکھے پڑے ہیں قبروں پر
یہ بھی تازہ گُلاب تھے جب تھے

اقبال طارق

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button