- Advertisement -

رونما جو بھی ہوا ہے وہ فنا ہو جائے گا

غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی

رونما جو بھی ہوا ہے وہ فنا ہو جائے گا
اپنا سازِ دل بھی اِک دن بے صدا ہو جائے گا

میرے دل کا آپ سے جب رابطہ ہو جائے گا
تیرگی چھٹ جائے گی یہ آئینہ ہو جائے گا

میں نے سوچا بھی نہ تھا ایسا خیال و خواب میں
پھول جیسا آدمی پتھّر نُما ہو جائے گا

جان کر یہ وہ ستمگر بھی بہت محتاط ہے
درد حد سے بڑھ گیا تو پھر دوا ہو جائے گا

مطمئن اپنے لہو کی تربیت سے ہوں ولیؔ
میرا بیٹا ایک دن میرا عَصا ہو جائے گا

 

ولی اللہ ولیؔ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی