آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

مولانا

سیمیں کرن کا اردو کالم

مولانا، خدا ہمارے دروازے پر روپ بدل بدل کر دستک دیتا ہے

میں بچوں کو بٹھا کر ماحول دوست اقدامات کے بارے میں بتا رہی تھی، میرے لہجے میں اداسی اور خفگی گھلی ہوئی تھی۔ گفتگو کا آغاز یہاں سے ہوا کہ چھوٹا بیٹا، جس کے او لیول کے آغاز میں ایک نیا مضمون لازمی قرار دیا گیا تھا، یعنی گلوبل پرسپیکٹو، مجھ سے استفسار کر رہا تھا اور قدرے بیزاری کا اظہار کر رہا تھا کہ یہ بوجھ کیوں ڈال دیا گیا۔ میں نے کہا: ”بہت دیر کی مہرباں آتے آتے، بیٹا، تم لوگوں کی نسلیں جس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گی، وہ تمہارا ماحول ہی ہو گا، تو اس کو سمجھنا اور ماحول دوست اقدامات کرنا ازبس ضروری ہے۔ یہی سے نئے کاروبار جنم لیں گے، نئی زندگی، نئی عالمی منڈیاں۔“

بس، گفتگو طویل ہوتی چلی گئی۔ بڑا بیٹا بھی آ کر بیٹھ گیا اور اس کے دوست بھی توجہ سے میری بات سن رہے تھے۔ میں انہیں ترغیب دے رہی تھی کہ اس وقت غیر معمولی اور غیر متوقع بارشوں سے نمٹنے کے لیے شہروں میں پانی چوس کنویں اور تالاب کتنے ضروری ہیں اور یہ کتنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب مولوی صاحب بھی آ کر خاموشی سے بیٹھ گئے اور ہماری گفتگو سننے لگے۔

میں ان کی جانب متوجہ ہوئی اور پوچھا: ”آپ کب آئے؟ پتہ ہی نہیں چلا۔“ یہ صاحبِ ثروت ہیں، نیک دل ہیں، دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ایک یوٹیوب چینل پر اپنے مذہبی پروگرام بھی لانچ کرتے ہیں۔ وہ عموماً بڑی سادہ اور سیدھی بات کرتے ہیں، اسی لیے میں بھی ان کی بات سن لیتی ہوں، مگر آج جانے کیوں ان کا لہجہ کچھ طنزیہ ہو گیا:

فرمانے لگے : ”آپ جس وقت ماحولیات پر لیکچر پلا رہی تھیں، میں سیلابی بستیوں میں خوراک، بستر، خشک دودھ، ایندھن، پینے کا پانی بانٹ کر آیا ہوں۔“

لہجے میں نیکی کی سرشاری اور ہلکا سا فخر بھی تھا اور میرے لیے کچھ تحقیر بھی۔ جسے میں نے دھیرج سے برداشت کر کے آہستہ سے کہا:

”آپ نے بہت اچھا اور بھلا کام کیا، مولوی صاحب، مگر یہ تو بتائیے کہ آخر اس کا کوئی حل بھی ہے یا نہیں؟ سیلاب تو اگلے برس بھی آئے گا۔ بارشیں اگر اگلے برس اس سے بھی زیادہ ہوں، یہ کلاؤڈ برسٹ کا چلن قدرت نے پکڑ لیا، اور پلیز، روایتی ملا کی طرح یہ مت فرمائیے گا کہ ’توبہ استغفار کیجیے، قرآن پہ عمل کریں‘ ۔ مولانا، یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ قدرتی آفات ٹھوس اقدامات چاہتی ہیں۔ تو آخر وہ ٹھوس اقدامات کیا ہیں؟

مولانا سوچ میں پڑ گئے اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے : ”میں کیا عرض کر سکتا ہوں؟ یہ تو حکومت کے کرنے کے کام ہیں کہ ماحولیات پر کام کرے، دریاؤں اور جنگلوں کی حفاظت کرے۔ ہم لوگ تو اپنی بساط بھر جو کر سکتے ہیں کرتے ہیں۔“

میں نے کہا: ”درست فرمایا، ریاست کا اولین فرض ہے، مگر اندھیر نگری چوپٹ راج تو اب ہم کیا کریں؟ اپنی نسلوں کو، بچوں کو مرنے دیں؟ مولانا، کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ کا منبر آپ کی قوت یہ سمجھے کہ خیرات صرف خوراک، کپڑا، لتا نہیں۔ نشیبی بستیوں میں پانی چوس کنویں بنا دینا، تالاب بنا دینا، جس سے کوئی مکان گرنے سے بچ جائے، پینے کا صاف پانی ملنے لگے، چرند و پرند جانوروں کو پانی پینے کو ملے، بارش کے کھڑے پانی سے پھیلتی بیماریوں کا سدباب ہو، تو کیا آپ کے نزدیک یہ نیکی نہیں ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی کار خیر ہے؟ ماحول دوست اقدامات نسلوں کو بچا لیں گے، اور جس نے ایک انسان بچایا، اس نے ساری انسانیت کو بچا لیا۔“

مولوی صاحب کے چہرے پر اب مکمل پسپائی پھیل چکی تھی اور سوچ کے سائے گہرے تھے۔ نیک دل آدمی تھے، ابھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبٹ کر آئے تھے۔ دھیرے سے بولے : ”آپ درست فرماتی ہیں، یہ واقعی کار خیر ہے، اور ہم مخیر حضرات مل کر بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

میں نے پھر دھیرے سے کہا: ”مولوی صاحب، مجھ جیسے نکمے لوگ تو بس دو چار لفظ گھسیٹ سکتے ہیں یا پھر لیکچر پلا سکتے ہیں، مگر آپ پریکٹیکل آدمی ہیں۔ آپ کا اپنا یوٹیوب چینل ہے، جس کے لاکھوں فالورز ہیں۔ آپ وہاں سے بھی لوگوں کو تحریک دے سکتے ہیں۔ اچھا، ایک سوال کی اجازت دیجیے : اگر کوئی ایسی پرائیویٹ این جی او یا کمپنی جو ان کنووں اور تالابوں کو بنانے میں دلچسپی لے، تو کیا آپ کا چہرہ اور نیک نامی استعمال کی جا سکتی ہے؟“

مولوی صاحب ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئے۔ میں نے دھیرے سے کہا: ”مولانا، خدا ہمارے دروازے پر روپ بدل بدل کر دستک دیتا ہے۔“

سیمیں کرن

post bar salamurdu

سیمیں کرن

تعارف ۔۔اصل نام سمیرہ کرن ۔قلمی نام سیمیں کرن ،تعلیم ایم اے ایل ایل بی ۔۔چار افسانوی مجموعے شجر ممنوعہ کے تین پتے ،بات کہی نہیں گئی،مربعوں کی دائرہ کہانی ،سوئی ہوئی لڑکی ، دو ناول ۔خوشبو ہے تو بکھر جائے گی اک معدوم کہانی ۔۔تیسرا ناول زیر طبع ۔۔ کالمز کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ستر- اسی تجزیاتی مضامین ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button