A True Salam To Urdu Literature

Dhanak Rung Zindagi

An Afsana By Dr Ishrat Naheed

یہ کہانی شروع ہوتی ہے اس سڑک سے جس پر میری ملاقات چندا سے ہوئی تھی ۔۔۔۔سڑک جو آج کی عورت کی طرح ہر عہد کی تاریخ کو اپنے سینے میں دبائے صرف بھاگنا جانتی ہے اپنی پیٹھ پر اگ آئے ضرورتوں کے پھپھولوں کو لیے ۔۔۔
دراصل میراگھر میں سڑک سے تقریباً ایک کلو میٹر اندر تھا جہاں سے صبح کے وقت بہت سی خواتین اور کالج جانے والی لڑکیاں نکلتی تھیں ان میں سے ذیادہ تر پیدل ہی سڑک تک جا کر رکشا یا بس سے اپنی منزل پر پہنچتی تھیں ۔گرمی کے موسم میں یہ دوری بہت مشکل لگتی تھی اس کا اندازہ مجھے ان کی چال اور چہرے پر آئے پسینے کی بوندوں سے ہوتا تھا خیر یہ ان خواتین اور لڑکیوں کا معمول تھا ۔ ایسا ہی میرا بھی معمول تھا جیسے ہی گھر سے گاڑی اسٹارٹ کرتی نظریں ادھر ادھر کچھ تلاش کرنا شروع کر دیتیں جیسے ہی کوئی خاتون جس کے کاندھے پر پرس ہوتایا کوئی لڑکی کتابوں کا بیگ لیے جاتی نظر آتی میں اس کے نزدیک جاکر ہارن بجا کر گاڑی روکتی اور اس سے پوچھتی
’’ کیا اسٹاپ تک جاؤگی ؟ ‘‘
وہ ہاں کہتی تو میں فوراً گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنے کے لیے کہتی اور پھر اسٹاپ پر انہیں اتار کر اپنے آفس کو بڑھ جاتی۔
میری پیشکش پرخواتین اکثر مسکراتے ہوئے بیٹھ جاتیں مگر لڑکیاں تھوڑا پس و پیش کرتیں کہ زمانہ خراب ہے پتہ نہیں یہ گاڑی والی آ نٹی کہاں لے جائیں لیکن ذیادہ تر لڑکیاں بھی دو لمحے کے لیے سوچتیں پھر دھوپ دیکھ کر بیٹھ جاتیں لیکن بیٹھتے ہی یہ ضرور پوچھتیں
’’ آنٹی آپ کہاں جاب کرتی ہیں ؟ ‘‘
’’ کہاں رہتی ہیں ؟ ‘‘
مجھے ان کی یہ احتیاط اچھی لگتی ۔ مگر کسی دن ایسا بھی ہوتا کہ کوئی لڑکی میری پیش کش ٹھکرا دیتی میں مسکراتی ہوئی آگے تو بڑھ جاتی مگر دل میں قلق ہوتا کہ کاش یہ لڑکی اس چھوٹے سے راستے پر میری ہمسفر بن جاتی جس سے یہ مختصر سا راستہ میرے لیے نیکی کا سبب بن جاتا ۔ دراصل جب میں چھوٹی تھی تب امی سمجھایا کرتی تھیں کہ بیٹا کسی کی کوئی بڑی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے مگر چھوٹی چھوٹی مدد ہمارے لیے بہت آسان ہوتی ہے اور اطمینان قلب کا باعث بھی ۔امی کی یہ بات کچھ اس طرح ذہن میں بیٹھی تھی کہ کب عادت بن گئی پتہ ہی نہ چلا ۔جب کہ میرے شوہر میری اس عادت پر ہنستے بھی تھے اورڈراتے بھی تھے کہ یہ بڑا شہر ہے دن رات حادثے ہوتے ہی رہتے ہیں کسی دن کسی خاتون نے گاڑی میں بیٹھ کر تم پر ہی پستول تان کر لوٹ لیا نا تب سمجھ میں آئے گی۔
ہاں تو میں یہ بتا رہی تھی کہ چندا سے بھی میری ملاقات اسی طرح ہوئی تھی۔ چند ا ۲۵ / ۲۶ سال کی چاند جیسی من موہنی صورت والی لڑکی تھی۔ چندا کے ہالے جیسا ہی گول چہرہ بڑی بڑی آنکھیں جنہیں وہ کاجل کی ہلکی سی لائن سے سجا ئے رکھتی پتلے پتلے گلابی ہونٹ جس کے نیچے دائیں طرف چھوٹا سا سیاہ تل بہت پیارالگتا۔ جب وہ بات کرتی تو بہتے جھرنے کی سی مدھر آواز کانوں میں جھنکار گھولتی جب ہنسنے کے لیے اس کے لب وا ہوتے تو اس کے گالوں میں ہلکے سے گڑھے پڑ جاتے جو اس کی خوبصورتی کو کچھ ایسا بڑھا دیتے کہ دیکھنے والا اسے ایک ٹک دیکھتا ہی رہ جائے ۔ میں اسے دیکھ کر سوچتی کہ سب کہتے ہیں کہ چاند میں داغ ہوتا ہے مگر اوپر والے نے اسے کتنا بے داغ بنایا ہے لگتا ہے ساری فیاضی اسی کو بنانے میں صرف کردی کوئی کمی نہ چھوڑی اس پر اس کا مزاج کچھ ایسا کہ ساری شگفتگی بھی جیسے اسی میں سما دی گئی ہو ۔وہ بہت ہی خوش مزاج اور خوش مذاق تھی ۔
دراصل چندا کے اور میرے جانے کا وقت ایک ہی تھااس کا گھر میرے گھر سے بھی آگے کہیں تھا وہ انٹیریئیر ڈیکوریٹر تھی اور کسی انٹیرئیر کی شاپ پر کام کرتی تھی ۔وہ ا کثر مجھے مل جایا کرتی تھی میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا کہ اگر تم گھر کے باہر گاڑی کھڑی دیکھو تو رک جایا کرو یا بیل بجا دیا کرو لیکن اس نے کبھی ایسا کیا نہیں ۔
آہستہ آہستہ دوریاں نزدیکیوں میں بدل گئیں وہ جب بھی ساتھ ہوتی تو اس کا دھیمi لہجہ بات کرنے کا انداز افف اس کے لفظوں کی ادائیں ایسا لگتا مانو چاند اپنی ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی سے نور کی کرنیں بکھیر کر ماحول کو خوشنما بنا رہا ہو اور وہ پانچ منٹ کا راستہ اپنا کچھ ایسا تاثر مجھ پر چھوڑتا کہ سارا دن ہی خوشگوار گزرتا ۔ لیکن ایسا روز نہیں ہوتا تھا کیونکہ میرا آفس جانا ہفتہ میں پانچ دن ہی ہوا کرتا تھا اس میں بھی کبھی کبھی وہ نہیں ملتی تھی اس لیے مجھے اتنے دنوں میں اس کی ذاتی زندگی کا کچھ علم نہیں ہو پایا تھا ایک دن میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ
’’ چندا تمہار ے گھر میں کون کون ہے؟ ‘‘
کہنے لگی ’’ ساس شوہر اور دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ‘‘
’’ بچے کتنے بڑے ہیں ؟ ‘‘
’’ بیٹا ابھیشیک ساتویں جماعت میں اور بیٹی سونیا پانچویں جماعت میں ‘‘
’’ تو تمہاری غیر موجودگی میں ساس بچوں کو دیکھ لیتی ہونگی ؟ ‘‘
’’ وہ صرف اپنے ہی بیٹے کو دیکھتی ہیں ‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا لیکن اس کی ہنسی میں وہ کھنک نہیں تھی جو روز ہوا کرتی تھی ’’ میرے بچے تو ایک دوسرے کو خود ہی سنبھال لیتے ہیں ۔ ‘‘
مجھے اس کا جواب عجیب سا لگا پھر خیال آیا کہ ہمارے یہاں مائیں شادی کے بعد بھی بیٹوں پر پوری گرفت رکھتی ہیں کہ کہیں بہو اسے اپنے قبضے میں نہ کر لے ایسا ہی کچھ معاملہ ہوگا
میں تو اس بات پر حیران تھی کہ چندا کے اتنے بڑے بچے ہیں مطلب اس کی شادی بہت کم عمر میں ہی ہوگئی ہوگی ۔
’’ چندا تمہاری شادی کب ہو گئی تھی ؟ ‘‘
’’ میری شادی تو اس وقت ہی ہو گئی تھی جب مجھے سہانے سپنے پوری طرح سمجھ بھی نہ آتے تھے اور نہ ہی شادی کے مفہوم سے پوری واقفیت ہی تھی دراصل میں گیارہویں پاس کرکے بارہویں جماعت میں پہنچی ہی تھی کہ یہاں سے رشتہ آگیا لڑکا بہت خوبصورت اور بقول میری ساس کے آفیسرَ تھا میرے پا پا نے شادی طے کردی اور جیسے ہی میرے امتحان ختم ہوئے شادی ہو گئی۔ ‘‘
اسٹاپ آگیا تھا اور وہ معمول کے مطابق شکریہ ادا کرتی ہوئی اتر گئی ۔
پھر جب راکھی آئی تب اس نے بتایا کہ اس کا ایک چھوٹا بھائی ہے جسے وہ بہت پیار کرتی ہے لیکن بچوں کے ٹیسٹ کی وجہ سے وہ مائکے جا نہیں پا رہی تب میں نے اس سے یونہی پوچھ لیا تھا کہ
’’ تمہارے پا پا کیا کرتے ہیں ؟ ‘‘
وہ کہنے لگی
’’ پاپا نہیں ہیں وہ تو اسی وقت دنیا سے چلے گئے جب شادی کے بعد پہلی بار میں ان سے ملنے گئی انہیں دل کا شدید دورہ پڑا تھا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا ۔لیکن میرے پاپا کے بعد میرے سسر نے مجھے بیٹی کا سا پیار دیا تھا مگر وہ بھی چلے گئے ۔ ‘‘
یہ باتیں کرتے ہوئے اس کا گلا رندھ گیا تھا اوروہ بہت اداس ہو گئی تھیں مجھے پہلی بار اس کی آواز میں نمی کا احساس ہوا تھا جس کا مجھے بہت ملال بھی ہوا کہ میں نے کیوں اس سے ایسی بات کی اس کی آنکھوں کی نمی میرے دل کے پار اتر گئی تھی اور اسی وقت میں نے طے کرلیا کہ آئیندہ اس سے کبھی ذاتی زندگی کی بات نہیں کرونگی کیونکہ مجھے چندا کی ہنستی ہوئی چاندنی پسند تھی اس پر کسی بادل کا سایہ نہیں ۔
پھر ہمارے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہوئی وہ بھی کبھی گھر کی کوئی بات نہیں کرتی تھی ۔بس پھر وہی معمول تھا ہمارا۔ وہ مل جاتی راستہ خوشگوار سا کٹ جاتا میرا دن اچھا گزر جاتا واپسی میں وہ مجھے کبھی نہیں ملی کیونکہ اس کی واپسی بہت دیر سے ہوتی تھی تقریبا آٹھ بج جایا کرتے تھے صبح دس بجے سے شام ۷ بجے تک کی سخت ڈیوٹی تھی اس کی ۔گھر پہنچ کر وہ بچوں کو ہوم ورک کرواتی پھر اس کے بعد کھانا ایک بار میں نے کہا کہ
’’ چندا تم کتنا تھک جاتی ہوگی اتنی لمبی ڈیوٹی سے ‘‘
اس کا جواب تھا ’’ دیدی بچوں کو دیکھتے ہی ساری تھکن کہاں غائب ہو جاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا ۔ ‘‘
اگلے مہینے دیوالی تھی وہ بہت خوش تھی اورگھر کو سجانے کی تیاری بڑے زور شور سے کر رہی تھی
دیوالی سے پہلے جب کروا چوتھ کا ورت آیا یہ ورت عموما شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کی درازئی عمر اور اگلے جنم میں اسی کے ساتھ کی تمنا میں رکھتی ہیں تو اس دن چندا نے بھی ورت رکھا ہوا تھا میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا ۔
’’ آج تو چندا اپنے چاند کے درشن کر کے ہی ورت کھولے گی اور اس کی چاندنی میں نہائے گی ‘‘
’’ نہیں میں تو زمینی چاند کو نہیں حقیقی چاند کو ہی دیکھ کر ورت کھولونگی کیونکہ وہ میرے ہی جیسا لگتاہے مجھے اور وہی میرا سچا ساتھی ہے۔ ‘‘
’’ ارے کیسی باتیں کر رہی ہو زمین کے چاند نے تو تمہارے آنچل میں کتنے پیارے پیارے ستارے ٹانکے ہیں اس کا شکریہ ادا نہیں کروگی عجیب بے مروت لڑکی ہو جی تم تو ‘‘
میں نے ہنستے ہوئے کہا
’’ ہاں آنچل ہی تو سجایا ہے ‘‘
’’ میری تو یہی دعاہے کہ تمہارے ہر جیون کو یہی چاند روشنی دیتا رہے ‘‘
اس نے اپنی ہتھیلی میرے ہونٹوں پر رکھ دی اور ہنس کر کہنے لگی
’’ بس یہی جیون کافی ہے اب ایسی کوئی دعا نہ دینا ‘‘
میں نے اس کی اس حرکت کو مذاق ہی جانا اور مسکرا دی
وہ گنگنا نے لگی تھی
’’ چندا رے چندا رے کبھی تو زمیں پہ آ بیٹھیں گے باتیں کرینگے ‘‘
میں گیت اور اس کی آواز کے سحر میں گم ہونے لگی تھی کہ کہ اسٹاپ آگیا اور وہ چلی گئی۔
چندا کی باتیں کبھی کبھی مجھے بڑا حیران کردیتی تھیں اور میں سوچ میں پڑ جاتی کہ یہ لڑکی کیا ہے اس کی سوچ میں اتنی گہرائی کہاں سے آجاتی ہے لیکن ایسا بھی لگتا کہ شاید میں غلط سوچ رہی ہوں کیونکہ ہمارے ملنے کا دورانیہ بہت ہی کم ہوتا تھا پانچ منٹ سے بھی کم وہ بھی روز نہیں ا س وجہ سے کسی بھی موضوع پر گفتگو ٹھیک سے ہو اس سے پہلے اسٹاپ آ جاتا اور بات ادھوری رہ جاتی ۔
ایک دن میں نے اس سے کہا۔
’’ چندا تمہارا نام مجھے بہت اچھا لگتا ہے دل چاہتا ہے اپنی بیٹی کا نام بدل دوں اور چندا رکھ دوں ‘‘
وہ ایک دم تڑپ کر بولی
’’ نا دیدی ایسا کبھی نہ کرنا آپ کو پتہ نہیں کیا کہ چاند کتنی اجاڑ جگہ کا نام ہے جہاں نہ ہوا ہے نہ پانی بس ایک حبس کا عالم ہے ایک گھٹن ہے اور یہ بھی کہ چاند کو گرہن بھی لگا کرتا ہے اور اس گرہن کی تکلیف کے بعد بھی اسے اپنے محور سے نجات نہیں اسے اپنے مدار پر گھومتے ہی رہنا ہوتا ‘‘
’’ ہائے کیسی فلسفیانہ باتیں کرنے لگیں تم ‘‘ میں نے شدید حیرانی کے عالم میں پوچھا
آج میں پہلی مرتبہ اس کی زبان سے اتنی منفی باتیں سن رہی تھی ورنہ تو اس کی سوچ ہمیشہ مثبت رہی تھی وہ بہت زندہ دل لڑکی تھی ۔
’’ ارے بابا مجھے تو چاند کی روشنی سے عشق ہے دیکھونا کیسی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی سے کائینات کو منور کرتا اندھیرے کو اجالے میں بدل دیتا ۔ اس کی خوبیاں دیکھو ‘‘
’’ لیکن خود تو ویران ہے نا ‘‘
آفس پہنچنے تک اس کی باتیں میرے دماغ میں گھومتی رہیں
پھر دیوالی کی وجہ سے وہ اور جلدی گھر سے نکلنے لگی تھی اس لیے اس سے ملاقات کا سلسلہ رک سا گیا تھا لیکن دیوالی پر اس نے مجھے فون پر گھر آنے کی پرزور دعوت ضرور دی ۔
میں نے بھی وعدہ کر لیا تھا اور اس سے کہا کہ راستہ بتا دینا کس طرف آنا ہے
کہنے لگی ’’ میں لینے آجاؤنگی۔آپ آٹھ بجے تیار رہیے گا ‘‘
مقررہ وقت پر وہ آگئی تھی
آج وہ بالکل چودھویں کے چاند کی طرح جگمگا رہی تھی اس نے ہلکے نیلے رنگ کی بڑی خوبصورت ساڑی پہن رکھی تھی اسی کی ہم رنگ ڈھیر ساری چوڑیاں جن کے بیچ بیچ میں نگینے جڑے طلائی کڑے تھے جو اس کے ہاتھٍوں کی ہلکی سی بھی حرکت پر جھلملا اٹھتے تھے انگلیوں میں انگوٹھیاں ۔ گلے میں نازک سا گلو بند ، کانوں میں جھمکیاں پھر اس سب پر اس کا سلیقے سے کیا گیا میک اپ اس کو کچھ ایسا حسین بنا رہا تھا کہ حقیقی چاند بھی شرما جائے ۔
بچے اور میں تیار تو تھے ہی اس کے آتے ہی فورا نیچے اتر گئے وہ کہنے لگی
’’ دیدی گاڑی سے ہی چلیے بچے اتنا نہیں چل پائینگے ‘‘
میں گاڑی کی چابی لے آئی اور ہم لوگ چل پڑے گلی پتلی ہونے اور اس میں بھی بچوں کے پٹاخے پھوڑنے کی وجہ سے گاڑی دھیمی رفتار سے چل رہی تھی جس طرح آہستہ روی سے زندگی چلتی ہے وہ بچوں سے اپنے مخصوص انداز میں ہنستی مسکراتی باتیں کرتی رہی بیچ بیچ میں راستہ بھی بتاتی رہی ایک کالے رنگ کے گیٹ پر اس نے رکنے کے لیے کہا اس کا گھر تو کافی دور تھا یہ اتنی دور سے پیدل جاتی ہے میں سوچ رہی تھی۔
اس کا گھر باہر سے بڑا ہی خوبصورت چھوٹے سے بنگلے نما تھا جس کی منڈیر پر ایک قطار میں دئیے جل رہے تھے مین گیٹ کے اندر زمین پرقوس قزاح رنگوں سے سجی دلفریب رنگولی تھی اور اس کے درمیان ایک بڑا سا دیا جگمگا رہا تھا جو مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہاں زندگی بہت روشن اور رنگوں بھری ہے ۔ ڈرائینگ روم کی سجاوٹ بھی چندا کے سلیقے کی منہ بولتی تصویر تھی ہم جیسے ہی اندر پہنچے اس کے دونوں بچوں نے نمستے کرتے ہوئے آگے بڑھ کر میرے پیر چھوئے اور دیوالی کی مبارکباد دی میں نے انہیں گلے سے لگا کر تحفے دئیے جو ان کے لیے لے کر آئی تھی وہ میرے بچوں کو لے کر اندر کھیلنے چلے گئے میں اور چندا بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اسی دوران اس کی ساس بھی آگئیں تقریبا ۶۰ْ / ۶۵ سال کی با وقار سی خاتون تھیں میں نے انہیں دیوالی کی مبارکباد دی انہوں نے بھی مجھے گلے لگا کر دعائیں دیں ۔ چندا اندر چلی گئی تھی اس کی ساس کہنے لگیں۔
’’ میری بہو بہت محنتی ہے لیکن اسے سارا دن ہو جاتا ہے میں تو اس سے کہتی ہوں کہ یہ نوکری چھوڑ کر کہیں اور کوشش کر ے جہاں سے پانچ بجے واپس آکر گھر دیکھ سکے۔ ‘‘
’’ آجکل سروس آسانی سے کہاں ملتی ہے۔ ‘‘ میں نے کہا
’’ کوشش کرے انسان تو سب مل جاتا ہے ‘‘
وہ چندا سے شاکی سی تھیں اور ان کا لہجہ روائتی ساسو ماں کی طرح ہی تھا جنہیں بہو کے ہر عمل سے شکایت ر ہتی ہے ۔
مجھے چندا کی بات یاد آئی جب اس نے بتایا تھا کہ سسر کے انتقال کے بعد ہی وہ سروس کرنے پر مجبور ہوئی ۔ تب ہی چندا مٹھائیاں اور دیگر لوازمات سے بھری ٹرے لے کر آگئی وہ بچوں کو بھی بلا لائی مگر وہ مٹھائی لیکر دوبارہ اندر چلے گئے اور چندا چائے بنانے ۔تب ہی ایک بہت خوبصورت سا نوجوان اندر آیا جسے دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ یہ چندا کا شوہر ہے میں اسے ایک ٹک دیکھتی ہی رہ گئی وہ مردانہ وجاہتوں کا مکمل نمونہ تھا دراز قد ، گوری رنگت ، گھنگھرالے بال چوڑی پیشانی بہترین لباس جو اس کی اعلٰی ذوق کا مظہر تھا مجھے چندا کی قسمت پر رشک آنے لگا ۔
وہ مسکراتا ہوا میرے بالکل قریب آکر بیٹھ گیا اس کی اس بے تکلفی پر میں اندر ہی اندر جز بز ہوئی اور تھوڑا سا دور سرک گئی ۔وہ بھی اور کھسک کر قریب ہو گیا تو میں نے اس کی ساس کی طرف دیکھا وہ اس سے میرا تعارف کراتے ہوئے بولیں ’’ یہ میرا بیٹا اویناش ہے ‘‘ کہتے ہوئے ان کے چہرے پر تشویش کے آثار تھے جس سے میں پریشان سی ہونے لگی ۔اویناش نے مسکراتے ہوئے میری طرف ہاتھ بڑھایا تب ہی آنٹی نے کہا
’’ بیٹا تم میرے پاس آجاؤ ‘‘
میں تیزی سے اٹھ کر ان کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی اب وہ میرے بالکل سامنے تھا اور مجھے گھور رہا تھا مجھے اس سے ڈر سا لگنے لگا میں اٹھ کھڑی ہوئی ۔
’’ آنٹی اب میں چلونگی ‘‘ کہنے کے ساتھ ہی بچوں کو آواز بھی دے دی ۔بچے باہر آئے تو ان کے ساتھ چندا کے بچے بھی تھے آتے ہی ان کی نظر اپنے پاپا پر پڑی پھر انہوں نے میری طرف دیکھا بچوں کی نظروں میں شرمندگی سی تھی مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ماجرہ کیا ہے ۔ سونیا نے کہا
’’ چلیے پاپا اندر چلتے ہیں ‘‘ اس میں کوئی حرکت نہیں ہوئی نہ ہی وہ سونیا کی طرف متوجہ ہوا وہ تو دھیمی آواز میں نہ جانے کیا کیا بڑ بڑا رہا تھا ہم باہر نکل آئے۔
چندا بھی گیٹ پر آگئی تھی جس وقت وہ مجھے الوداع کہہ رہی تھی اس کے دھنک رنگ چہرے پر گرہن کے سائے واضح نظر آرہے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
A Great Afsana By Dr Ishrat