دنیا اس وقت تاریخ کے ایک نہایت حساس اور خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی امن کو ایک بار پھر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ یہ صرف تین ممالک کے درمیان سیاسی یا عسکری تنازع نہیں رہا بلکہ ایک ایسا عالمی بحران بن چکا ہے جس کے اثرات ہر براعظم، ہر معیشت اور ہر انسان تک پہنچ رہے ہیں۔ بارود کی یہ بو صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی منڈیوں، توانائی کے نظام، اور عام انسان کی روزمرہ زندگی میں بھی گہرائی تک اتر چکی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ موجودہ صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط سیاسی کشمکش، طاقت کا توازن، علاقائی مفادات، اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی تاریخ موجود ہے۔ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جو فاصلے وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتے گئے، وہ آج ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مکالمہ کمزور اور طاقت کا مظاہرہ غالب نظر آتا ہے۔ اسرائیل کی سلامتی کے خدشات، امریکہ کی عالمی پالیسی، اور ایران کی علاقائی خودمختاری کی خواہش نے اس خطے کو ایک مستقل غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
حالیہ برسوں میں یہ کشیدگی وقفے وقفے سے بڑھتی رہی، مگر موجودہ صورتحال نے اسے ایک کھلی جنگ کے خطرے کے قریب کر دیا ہے۔ فوجی کارروائیوں، فضائی حملوں اور جوابی حملوں نے پورے خطے کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک معمولی غلطی بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تاریخ اپنے سب سے خطرناک موڑ پر داخل ہوتی ہے۔
جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے فیصلے طاقتور ایوانوں میں ہوتے ہیں مگر اس کا خمیازہ عام انسان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نہتے شہری، معصوم بچے، اور بے بس خاندان اس آگ میں سب سے پہلے جلتے ہیں۔ بستیاں اجڑتی ہیں، شہر خاموش ہو جاتے ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھر جاتے ہیں اور زندگی ایک مسلسل خوف میں بدل جاتی ہے۔ ایک لمحے میں پوری زندگی کی محنت، خواب اور امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔
انسانی ہجرت اس جنگ کا ایک اور دردناک پہلو ہے۔ جب زمین اپنے ہی رہنے والوں کے لیے غیر محفوظ ہو جائے تو انسان اپنی جڑیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ سفر اکثر بے یقینی، بھوک، بیماری اور بے بسی کے سائے میں مکمل ہوتا ہے۔ مہاجر کیمپوں میں زندگی ایک نئے مگر سخت امتحان میں بدل جاتی ہے جہاں عزت، سہولت اور تحفظ سب مفقود ہو جاتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی یہ کشیدگی صرف سیاسی نقشے کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ عالمی معیشت کی بنیادوں کو بھی ہلا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ خلیج کے حساس آبی راستے سے گزرتا ہے، جس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں فوری ردعمل پیدا کرتی ہے۔ تیل کی قیمتیں بعض اوقات ایک ہی دن میں کئی کئی فیصد بڑھ جاتی ہیں اور عالمی سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتے ہیں۔
توانائی کے اس بحران کا سب سے بڑا اثر تیل اور گیس کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کبھی ایک سو بیس ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ جاتی ہیں اور کبھی معمولی کمی کے بعد بھی بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں۔ اس اتار چڑھاؤ نے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی قیمتیں جب بڑھتی ہیں تو اس کا اثر صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہر شے کی قیمت متاثر ہوتی ہے۔
ایشیا اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔ یہ خطہ دنیا کی بڑی توانائی کی طلب رکھنے والی آبادی پر مشتمل ہے اور زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ایشیائی معیشتوں پر پڑتا ہے۔ درآمدی بل بڑھ جاتا ہے، زرمبادلہ پر دباؤ آتا ہے اور کرنسی کی قدر کمزور ہونے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھتی ہے اور عام شہری کی زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی اور مالی خسارے کے شکار ممالک کے لیے توانائی کی بڑھتی قیمتیں ایک نئے بحران کو جنم دیتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور روزمرہ اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں۔ یوں ایک عالمی جنگ کا اثر براہ راست ایک غریب شہری کی زندگی تک پہنچ جاتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی بحث طلب ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک اپنے اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ توانائی کے ذخائر، جغرافیائی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک کنٹرول کی جنگ میں اکثر انسانیت پیچھے رہ جاتی ہے۔ عالمی ادارے اگرچہ امن کے دعوے کرتے ہیں مگر عملی اقدامات اکثر کمزور نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً تنازعات بڑھتے ہیں اور حل کمزور پڑتے جاتے ہیں۔
میڈیا کا کردار بھی اس صورتحال میں انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ اطلاعات کی اس جنگ میں ہر فریق اپنی مرضی کا بیانیہ پیش کرتا ہے۔ کہیں حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور کہیں اصل حقیقت کو چھپایا جاتا ہے۔ اس سے عوام کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور رائے عامہ ایک مخصوص سمت میں موڑ دی جاتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات صنعتی ترقی کو سست کر دیتے ہیں، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور روزگار کے مواقع کم ہونے لگتے ہیں۔ یوں ایک جنگ نہ صرف سرحدوں کو بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب پیٹرول اور گیس مہنگی ہوتی ہیں تو اس کا اثر ہر گھر پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، خوراک مہنگی ہو جاتی ہے اور عام آدمی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ دباؤ ہے جو براہ راست معاشرتی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔
ایسے حالات میں امن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ دنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ مکالمہ، سفارتکاری اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو پائیدار امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ طاقت کے استعمال سے وقتی فائدہ ضرور ہو سکتا ہے مگر اس کے نتائج ہمیشہ طویل المدتی نقصان کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا انسانیت ہمیشہ جنگ کے شعلوں میں جلتی رہے گی یا کبھی امن کی روشنی کو ترجیح دے گی؟ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں جبکہ امن ترقی، استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اب فیصلہ دنیا کو کرنا ہے کہ وہ بارود کے راستے پر چلتی ہے یا انسانیت کے راستے کو اپناتی ہے۔
یوسف صدیقی








