آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعاجز کمال رانا

دل کی آنکھوں سے

عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل

دل کی آنکھوں سے نکلتے ہیں جو کم کم آنسو
جسم کی آنکھ میں آ جائیں نہ یک دم آنسو

کیسے پانی پہ کوئی ریت سے بن پائے گا گھر
کیسے مسکان سے کر پائیں گے سنگم آنسو

جیسے ساون میں کبھی ٹوٹ کے بادل برسے
یوں برستے ہیں مری آنکھ سے چھم چھم آنسو

میں نے اجداد سے میراث میں پایا کیا ہے
چار چھ نوحے بہت درد ترا غم آنسو

عاجز کمال رانا

post bar salamurdu

عاجز کمال رانا

خوشاب, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button