آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ دل شمسشعر و شاعری

نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے

شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل

نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے
عجیب ذہنی اذیت میں دن گزارے گئے

ہماری نیند سپرد خیال یار ہوئی
ہمارے خواب رقیبوں کے سر سے وارے گئے

غموں کے گہرے سمندر سے ہم نکل آئے
کسی نے ہم کو ڈبویا تھا جب کنارے گئے

بساط عشق کے پہلو سے ہم اٹھے ہی نہیں
کسی کی جیت کی خاطر خوشی سے ہارے گئے

پلٹ کے دیکھا جو اس نے تو کچھ تسلی ہوئی
کہ رائیگاں تو نہیں اشک سب ہمارے گئے

ہماری موت کا ملبہ بھی ڈالیے ہم پر
ہم اپنی زیست کے پیروں میں آ کے مارے گئے

شاہ دل شمس

post bar salamurdu

شاہ دل شمس

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button