شاہ دل شمس
حافظ آباد, پاکستان
-

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

میں پڑا ہوں میکدے میں بوتلوں کے درمیاں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

پوری لگن امنگ سے میں نے نہیں کیا
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

زمیں سے زیر ہوا ہوں نہ آسماں سے میں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

دکھی دلوں کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

اسی لیے تو کھڑے ہم بتوں کی صف میں ہیں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

سینے میں کوئی آگ کا گولا ہے
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

میں صدا فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

ہوئی آنکھ نم دل تڑپ کر پکارا
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

ہو سکے تو آ جاؤ بارشوں کے موسم میں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

ماورا ہے سوچوں سے
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
-

نشے میں ہم ہیں مگر
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل