آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ دل شمسشعر و شاعری

ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے

شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل

ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے
اب ہمیں عشق سے کوئی کیا کام ہے

جس نے لوٹا ہمیں پارسا تھی بہت
یہ طوائف تو بس یوںہی بدنام ہے

جائیے شیخ جی ہم سے ملیے نہیں
ہم پہ پینے پلانے کا الزام ہے

خالی بوتل ہیں ہم وہ بھی ٹوٹی ہوئی
ہم سمجھتے ہیں کیا اپنا انجام ہے

وہ ملے خواب میں اور کہنے لگے
یہ سہولت بھی بس آج کی شام ہے

شاہ دل شمس

post bar salamurdu

شاہ دل شمس

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button