اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

دل دفعتہ جنوں کا مہیا سا ہو گیا

میر تقی میر کی ایک غزل

دل دفعتہ جنوں کا مہیا سا ہو گیا
دیکھی کہاں وہ زلف کہ سودا سا ہو گیا

ٹک جوش سا اٹھا تھا مرے دل سے رات کو
دیکھا تو ایک پل ہی میں دریا سا ہو گیا

بے رونقی باغ ہے جنگل سے بھی پرے
گل سوکھ تیرے ہجر میں کانٹا سا ہو گیا

جلوہ ترا تھا جب تئیں باغ و بہار تھا
اب دل کو دیکھتے ہیں تو صحرا سا ہو گیا

کل تک تو ہم وے ہنستے چلے آئے تھے یوں ہی
مرنا بھی میر جی کا تماشا سا ہو گیا

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button