- Advertisement -

بَلوا

شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم

بَلوا

آ نینوں سے خوف مِٹا ءوں

ماتھے سے بارُود ہٹاوں

جس شب مجھ سے توُ بچھڑا تھا

خود کو یہیں پہ بھول گیا تھا

آ میں تجھ سے تجھے ملاءوں

بستی میں سب سوداگر ہیں

پورا لالچ ، آدھا تول

توُ اِک پل میں لُٹ جائے گا

تیرا من موتی اَن مول

بستی تن کو لے جائے گی

یہاں سے من کو رَستا جائے

توُ ہم سب سے ڈرتا کیوں ہے

ہم سب کب ہیں آدم جائے

ہم تیرے پہلے ہَم سائے

تیرے درد میں پل پل بے کل

میں جنگل کی ہوا ہُوں ، مت ڈر

ساتھ لپٹ کر، ہاتھ پکڑ کر

پاوں میں گر کر عرض گذاروں

یہیں کہیں رُک جا ا و راہی

بستی کو مت جا

بھینٹ اَجل کی چڑھ جائے گا

موت کسی کی مر جائے گا

آدم ، آدم کا بیری ہے

آج کی رات بہت بھاری ہے

بلوا بستی میں جاری ہے

جنگل میں رُک جا او راہی

جنگل سے مت جا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از احمد فراز