اردو نظمشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

بَلوا

شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم

بَلوا

آ نینوں سے خوف مِٹا ءوں

ماتھے سے بارُود ہٹاوں

جس شب مجھ سے توُ بچھڑا تھا

خود کو یہیں پہ بھول گیا تھا

آ میں تجھ سے تجھے ملاءوں

بستی میں سب سوداگر ہیں

پورا لالچ ، آدھا تول

توُ اِک پل میں لُٹ جائے گا

تیرا من موتی اَن مول

بستی تن کو لے جائے گی

یہاں سے من کو رَستا جائے

توُ ہم سب سے ڈرتا کیوں ہے

ہم سب کب ہیں آدم جائے

ہم تیرے پہلے ہَم سائے

تیرے درد میں پل پل بے کل

میں جنگل کی ہوا ہُوں ، مت ڈر

ساتھ لپٹ کر، ہاتھ پکڑ کر

پاوں میں گر کر عرض گذاروں

یہیں کہیں رُک جا ا و راہی

بستی کو مت جا

بھینٹ اَجل کی چڑھ جائے گا

موت کسی کی مر جائے گا

آدم ، آدم کا بیری ہے

آج کی رات بہت بھاری ہے

بلوا بستی میں جاری ہے

جنگل میں رُک جا او راہی

جنگل سے مت جا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button