- Advertisement -

قائدِ مُلک و ملت

شعیب شوبیؔ کی ایک اردو نظم

ملک میں اہلِ علم اِک آیا وہ آ کے چل دیا
رازِ غیوری سب کو بتلایا بتا کے چل دیا
میری رَضا کہ میں دِکھایا ہوا مانوں یا نہیں
رستہ وفا کا اُس نے دکھلایا دکھا کے چل دیا
لوگ مِرے وطن کے گو بکھرے ہوئے تھے سب کے سب
عکسِ جمہور اُس نے دکھلایا دکھا کے چل دیا
ملک میں اہلِ علم اِک آیا وہ آ کے چل دیا
رازِ غیوری سب کو بتلایا بتا کے چل دیا
شخص عجب تھا اندھوں کو خواب دکھایا کرتا تھا
بہروں سے باتیں کرتا تھا کان پکایا کرتا تھا
شخص عجب تھا گزرا کل یاد دلایا کرتا تھا
قوم کو اُس کے بُھولے اَسباق پڑھایا کرتا تھا
وقتِ ہجوم سب کو ہی پیٹ پیارا ہوتا تھا
ایسے میں تنہا وہ مِرا مُلک بچایا کرتا تھا
ملک میں اہلِ عِلم اِک آیا وہ آ کے چل دیا
رازِ غیوری سب کو بتلایا بتا کے چل دیا
دینِ خُدا پہ اُس نے خود پہرہ دیا ، نہیں دیا
دشمنوں کو بھی اُس نے غم گہرہ دیا ، نہیں دیا
مظلوموں کا یتیموں کا مفلسوں کا سہارا تھا
فوجیوں کو شہیدوں کو سہرا دیا ، نہیں دیا
آنکھیں تلاشتی ہیں جس کو وہ کہاں چلا گیا
اندھوں نے حُکمراں ہمیں بہرہ دیا ، نہیں دیا
ملک میں اہلِ عِلم اِک آیا وہ آ کے چل دیا
رازِ غیوری سب کو بتلایا بتا کے چل دیا

شعیب شوبی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
وحید احمد کا ایک اردو کالم