-
آپ کا سلام

قائدِ مُلک و ملت
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو نظم
-
آپ کا سلام

مجھے خد و خال پر مِرے حیرانی بھی نہیں
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

آج سوچا ہے کہ ہستی ترا بیاں لکھوں
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

در آئی مِرے بھاگوں میں رسوائی وغیرہ
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

چل دیے بزم سے جانے کا اِشارہ جو ہوا
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

حق کا پرچار کیے گزرے پیمبر اکثر
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

خامشی چیختی ہے غم کا بیاں ہوتا ہے
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

جو نہ کارِ خیر میں گزرے کیا ہے زندگی
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

کوئی منصب نہ خزانہ نہ جزا چاہتی ہے
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

زندہ ہیں تِرے شہر میں امید و یقیں پر
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

وضع اِنساں میں مخفی ہیں
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل

