آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریشہناز رضوی

دیکھتا ہے ہو کے حیراں آدمی

شہناز رضوی کی ایک اردو غزل

دیکھتا ہے ہو کے حیراں آدمی
ہو گیا ہے کتنا ارزاں آدمی

اِک زمانہ تھا ، ہُوا کرتا تھا جب
آدمی کے دُکھ کا درماں آدمی

نفسا نفسی پھیلی ہے بس چار سُو
آج ہے کتنا پریشاں آدمی

قیدِ تنہائی ہے اور ہے دیکھئے
روزنِ دیوارِ زنداں آدمی

اِس پریشاں دَور میں بتلایئے
کیسے ڈھونڈے کوئی خنداں آدمی

توڑ دی مہنگائی نے ایسی کَمَر
ہر طرف ہے پا بجولاں آدمی

سوچ کر “شہناز” یہ بتلایئے
کِس طرح بنتا ہے اِنساں آدمی

 شہناز رضوی

شہناز رضوی

نام :: شہناز رضوی تخلُّص :: شہناز سکونت :: کراچی پاکستان ادبی خدمات :: آن لائن طرحی مُشاعروں میں فیس بُک کے 9 گروپس میں 2013 سے شرکت کر رہی ہوں ۔ ایک شعری مجموعہ “ متاعِ زیست “ کے نام سے 2019 میں منظرِ عام پہ آ چُکا ہے ۔ اور اب دوسرا مجموعہ حمد و نعت کے حوالے سے بہت جلد آنے والا ہے ان شا اللہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button