آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ دل شمسشعر و شاعری
میں پڑا ہوں میکدے میں بوتلوں کے درمیاں
شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
میں پڑا ہوں میکدے میں بوتلوں کے درمیاں
جبکہ رہنا چاہتا تھا دوستوں کے درمیاں
ایسا لگتا ہے کہ جیسے زندگی کی شام ہے
آپ چل کر آ گیا ہوں قاتلوں کے درمیاں
اس لیے ہے لاش میری جھاڑیوں کے سائے میں
کچھ مرے ہمدرد بھی تھے دشمنوں کے درمیاں
وقت کی آری چلی تو زندگی سے کٹ گئے
ہم درختوں کی طرح تھے پنچھیوں کے درمیاں
پانیوں سے دور مارا جا رہا ہوں شاہ دلؔ
بے وطن بے آسرا میں کوفیوں کے درمیاں
شاہ دل شمس








