کوئی بھی راہ نہ اس شخص سے نکالی گئی
ہمارے بیچ میں جو بات تھی وہ پا لی گئی
وہ اقتدار میں آیا تو جو کرے سو کرے
غلام سے بھی کبھی سلطنت سنبھالی گئی؟
سلیمؔ کو تو شہنشاہ نے رکھا آزاد
کلیؔ کے گرد ہی دیوار سی اٹھا لی گئی
اداس چہروں پہ آثار وقت کے ہیں عیاں
ہے راکھ رخ پہ مرے، تیرے لب کی لالی گئی
اندھیرے شہر میں ہے راج، راجہ چوپٹ کا
یہ کس کے نام کی تہمت تھی کس پہ ڈالی گئی
نمازِ صبح کی ہم میں کسی کو فکر نہیں
جبھی تو رزق سے برکت بھی سب اٹھا لی گئی
تمہارے بعد تھا آنگن میں وحشتوں کا رقص
اداس دن تھا بہت، شام خالی خالی گئی
یہ کیسا دوغلہ پن ہے کہ ایک سی دستار
امیرِ شہر کی رکھی، مری اچھالی گئی
رشیدؔ وقت نے اس کو بدل دیا یکسر
رہا نہ رنگ، جو صورت تھی بھولی بھالی، گئی
رشید حسرتؔ
۱۸ فروری، ۲۰۲۶








