آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

کوئی بھی راہ نہ اس شخص سے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

کوئی بھی راہ نہ اس شخص سے نکالی گئی
ہمارے بیچ میں جو بات تھی وہ پا لی گئی

وہ اقتدار میں آیا تو جو کرے سو کرے
غلام سے بھی کبھی سلطنت سنبھالی گئی؟

سلیمؔ کو تو شہنشاہ نے رکھا آزاد
کلیؔ کے گرد ہی دیوار سی اٹھا لی گئی

اداس چہروں پہ آثار وقت کے ہیں عیاں
ہے راکھ رخ پہ مرے، تیرے لب کی لالی گئی

اندھیرے شہر میں ہے راج، راجہ چوپٹ کا
یہ کس کے نام کی تہمت تھی کس پہ ڈالی گئی

نمازِ صبح کی ہم میں کسی کو فکر نہیں
جبھی تو رزق سے برکت بھی سب اٹھا لی گئی

تمہارے بعد تھا آنگن میں وحشتوں کا رقص
اداس دن تھا بہت، شام خالی خالی گئی

یہ کیسا دوغلہ پن ہے کہ ایک سی دستار
امیرِ شہر کی رکھی، مری اچھالی گئی

رشیدؔ وقت نے اس کو بدل دیا یکسر
رہا نہ رنگ، جو صورت تھی بھولی بھالی، گئی

رشید حسرتؔ

۱۸ فروری، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button