اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا

میر تقی میر کی ایک غزل

فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا
اگرچہ آسماں تک شور جاوے ہم فقیروں کا

تبسم سحر ہے جب پان سے لب سرخ ہوں اس کے
دلوں میں کام کر جاتا ہے یاں جادو کے تیروں کا

سرکنا اس کے درباں پاس سے ہے شب کو بھی مشکل
سر زنجیر زیر سر رکھے ہے ہم اسیروں کا

گئے بہتوں کے سر لڑکوں نے جو یہ باندھنوں باندھے
شہید اک میں نہیں ان باندھنوں کے سرخ چیروں کا

قفس کے چاک سے دیکھوں ہوں میں تو تنگ آتا ہوں
چمن میں غنچہ ہو آنا گلوں پر ہم صفیروں کا

ہمارے دیکھتے زیرنگیں تھا ملک سب جن کے
کوئی اب نام بھی لیتا نہیں ان ملک گیروں کا

دل پر کو تو ان پلکوں ہی نے سب چھان مارا تھا
کیا میر ان نے خالی یوں ہی ترکش اپنے تیروں کا

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button