اردو غزلیاتشعر و شاعری

کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو
اے ہستی کے خام سہارو

دنیا دارو! اتنی نفرت!
اتنی نفرت! دنیا دارو!

میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو
کوئی بات کرو غم خوارو!

موجیں اور پابندیٔ دریا
ہٹ جاؤ رستے سے کنارو!

کوئی جھٹک دے دامن باقیؔ
اتنے بھی پاؤں نہ پسارو!

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button