اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

خورشید و قمر بھی دیکھ لیں گے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

خورشید و قمر بھی دیکھ لیں گے
یہ راہگزر بھی دیکھ لیں گے

تاروں کا طلسم ٹوٹنے دو
انوار سحر بھی دیکھ لیں گے

جلتا ہوا آشیاں تو دیکھیں
ٹوٹے ہوئے پر بھی دیکھ لیں گے

یہ نیت ناخدا رہی تو
اک روز بھنور بھی دیکھ لیں گے

قانون خدا بھی ہم نے دیکھا
ترمیم بشر بھی دیکھ لیں گے

آغوش صدف کھلی تو باقیؔ
ہم آب گہر بھی دیکھ لیں گے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button