برداشت ایک ایسی فضیلت ہے جو فرد کو مشکل حالات میں صبر اور ضبط سے کام لینے،جزبات کو قابو میں رکھنے اور محتلف آراء اورنظریات کو قبول کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے برداشت کی اہمیت فرد کی اپنی شخصیت کی تعمیر میں مسائل پر قابو پانے میں اور معاشرتی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں نمایاں ہے برداشت معاشرتی امن اور اخلاقی اقدار کی بنیاد ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کو سمھجنے اور اختلافات میں نرمی اختیار کرنے میں مدد دیتی ہے برداشت انفرادی اجتماعی زندگی کو خوشگوار بناتی ہے جبکہ اس کے بغیر معاشرہ جنگل بن جاتا ہے جہاں کوئی امن و محبت باقی نہیں رہتی۔
برداشت معاشرتی امن اور ذاتی خوشحالی کے لیے بیت ضروری ہے کیونکہ یہ رواداری،تحمل اور محبت کو فروغ دیتی ہے جس تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور معاشرہ تباہی سے بچتا ہے۔برداشت کرنے والے لوگ زندگی کے مسائل اور تکالیف کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں اور یہ ان کی شخصیت کو نکھارنے میں مدد دیتی ہے۔انسان معاشرے کی بقا اور سکون کا سب سے بنیادی اصول برداشت ہے اگر انسان ایک دوسرے کی رائے،جذبات،مذہبی وسیاسی نطریات،خاندانی معاملات اور ذاتی فیصلوں کو برداشت نہ کریں تو معاشرہ بکھر کہ رہ جاتا ہے
آج ہم دیکھتے ہیں کہ محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر سٹرکوں پر جھگڑے ہوتے ہیں لوگ ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھاتے ہیں بلکہ جان سے بھی مار دیتے ہیں یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے برداشت کھو دی ہے۔قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے کہ؛ہم نے تمہیں قوماں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو،ناکہ ایک دوسرے سے نفرت کرو۔ایک اور جگہ فرمایا،برائی کا جواب بھلائی سے دو پھر تمہارا دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا یہی آیات ہمیں سیکھاتی ہیں کہ مذہب ہو یو سیاست،خاندان ہو یا سماج،اصل راستہ برداشت اور رواداری کا ہے۔ہمارے معاشرے میں برداشت کی کمی کے باعث دو تین افسوسناک واقعات حال ہی میں رونما ہوئے ہیں جن میں سڑک پر چھوٹی بات پر لوگ جھگڑ پڑے اور ایک دوسرے کو جان سے مار دیایہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ غصہ اور عدم برداشت انسان کو اندھا کر دیتا ہے اور چند لمحوں میں ایک زندگی برباد ہو جاتی ہے ۔
نفسیاتی طور پر غصہ انسان کے دماغ میں امیگڈالا کے زیادہ متحرک ہونے سے پیدا ہوتا ہے جو جزبات کو کنٹرول کرتا ہے جب کسی مکو نا انصافی یا اپنی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے تو دماغ فوری رد عمل دیت ہے اور غصہ ابھرتا ہے ہمیں اپنے غصے پر قابو پانا چاہیے۔جسمانی طور پر جب بھی غصہ آئے فورا وضو کریں پانی کے چھینٹے غصے کو کم کرتے ہیں مقام بدلیں،بیٹھے ہیں تو کھڑے ہو جائیں کھٹرے ہیں تو لیٹ جایئں ہر شخص کو اپنی عبادت اور عقیدے کا حق ہے ایک دوسرے کو برداشت کرنا معاشرتی امن کی ضمانت ہے ۔خاندانی و ازدواجی تعلقات میں میاں بیوی کے درمیان چھوٹے اختلافات کو برداشت سے حل کیا جا سکتا ہے ورنہ طلاق اور نفرتیں جنم لیتی ہیں رسول اکرمﷺ کی زندگی صبر و تحمل سے عبارت ہے اس لییضروری ہے کہ تمام شعبہ ہائے حیات میں صبرو تحمل سے کام لیا جائے پر سکون اور کامیاب زندگی کے لیے صبروتحمل اور قوت برداشت بنیادی عنصر ہے ہماری پستی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم وقتی طور پر جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں جس سے دور رس نگاہ متاثر ہوتی ہے اور سوچ و تدبر کا مزاج نہیں رہتا موجودہ حالات میں خاص طور پر سیرت نبوی کے اس پہلو کو اپنانے کی شدید ضرورت ہے۔
ڈاکٹر نعمان رفیع








