آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریناصر ملک

یہ اپنے آپ سے نمٹ نہیں سکی

ایک اردو غزل از ناصر ملک

یہ اپنے آپ سے نمٹ نہیں سکی
کہ زندگی کبھی پلٹ نہیں سکی

مری جلی ہتھیلیوں میں آج تک
مری کوئی دعا سمٹ نہیں سکی

سراجِ رہ گزر دھواں دھواں سا ہے
ردائے شب جو اُس سے پھٹ نہیں سکی

یہ عہدِ ناتواں ہے جس سے ایک سل
مرے وجود پر سے ہٹ نہیں سکی

کبھی شبِ غریب کے چراغ سے
صدائے روشنی لپٹ نہیں سکی

ناصر ملک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button