آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘

ایک فکری و معنوی مطالعہ

saim khan

زمانے کے فکری افق پر بعض اسما ایسے نمودار ہوتے ہیں جن کی جلوہ گری وقتی نہیں بل کہ وہ شعور کی تہوں میں اتر کر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ انھی سنجیدہ اذہان میں عابد ہاشمی کا نام ایک ایسے متفکر کے طور پر ابھرتا ہے جس کی شخصیت میں خاموش وقار، فکری تربیت اور درونِ ذات مکالمے کا سلیقہ مجتمع ہے۔ ان کی موجودگی کسی شورِ تحسین کی مرہونِ منت نہیں بل کہ ایک ایسی خاموش فکری روشنی ہے جو دیکھنے والے پر یک بارگی آشکار نہیں ہوتی بل کہ بتدریج منکشف ہوتی ہے۔
عابدضمیر ہاشمی کا مزاج تدبر سے لبریز، اسلوب متانت سے معمور اور اندازِ بیان میں ایک خاص قسم کا توازن پایا جاتا ہے۔ وہ اظہار میں خطیبانہ جوش نہیں رکھتے بل کہ علمی سکون سے بات کرتے ہیں۔ یہی سکون ان کی شخصیت کی شناخت بھی ہے اور ان کے قلم کی تاثیر بھی۔ان کی تصنیف ’’مقصدِ حیات‘‘ محض اخلاقی یا مذہبی نصیحت کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک فکری محاکمہ ہے جس میں انسان اپنی موجودگی کے سوالات سے براہِ راست متصادم ہوتا ہے۔ مصنف نے زندگی کی غایت کو محض لفظوں کے پیرائے میں نہیں باندھا بل کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو منطقی، روحانی اور تجرباتی سطح پر پرکھنے کی سعی کی ہے۔
کتاب کے ابواب کسی سطحی قاری کے لیے نہیں بل کہ اس ذہن کے لیے ہیں جو مکث کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے اور معنی کی تہوں کو دریافت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ہر فصل میں مصنف نے انسانی شعور کے کسی نہ کسی گوشے کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ کبھی وہ ارادے کی ساخت پر روشنی ڈالتے ہیں کبھی مقصد کے تخلقّی پہلو پر اور کہیں زندگی کو ایک مسلسل ارتقا کی علامت قرار دیتے ہیں۔عابد ہاشمی کا طرزِ تحریر فلسفیانہ اصطلاحات سے زیادہ فکری اشاریت پر قائم ہے۔ وہ نعرہ پرداز نہیں اشارہ گر ہیں۔ ان کے جملوں میں نہ مبالغہ ہے نہ سطحیت۔ وہ لفظ کو اس کے بارِ معنویت کے ساتھ برتتے ہیں۔ یہی وصف ان کی تحریر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔
ان کی کتاب میں مذہبی حوالہ جات بھی ہیں مگر وہ انہیں محض تزئینی حیثیت سے نہیں لاتے بل کہ ان سے فکری استدلال اخذ کرتے ہیں۔ وہ قاری کو ایمان کی تلقین نہیں کرتے بل کہ ایمان کے پسِ پشت موجود سوالات سے روبرو کرتے ہیں۔ ان کے ہاں سوال کا درجہ جواب سے کہیں زیادہ مقدس ہے کیوں کہ سوال زندہ رکھتا ہے اور جواب اکثر ذہن کو موقوف کر دیتا ہے۔
’’مقصدِ حیات‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک تاثر یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مصنف نے زندگی کو کسی جامد تصور کے طور پر نہیں دیکھا بل کہ اسے متحرک قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک وجود جامد نہیں بل کہ خود اپنی تعبیر کا متلاشی ہے۔ یہی تصور ان کی تحریر کو وجودی رنگ عطا کرتا ہے۔اگر تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو کتاب میں بعض مقامات پر استدلال کا تسلسل جان بوجھ کر منقطع سا محسوس ہوتا ہے جو دراصل مصنف کی شعوری ترکیب ہے۔ وہ قاری کو فکر کی ایک منزل پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ خود اگلا زینہ تلاش کرے۔ یہ اسلوب ان کی فکری خودداری کی دلیل ہے۔کتاب کا اسلوب سادہ بیانی سے گریزاں ہے۔ جملوں میں ایک علمی پیچیدگی ہے جو ابتدا میں مانعِ فہم معلوم ہوتی ہے مگر چند صفحوں کے بعد یہی پیچیدگی قاری کے لیے لطف کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنف نے بیان کو محض تفہیم کا وسیلہ نہیں سمجھا بل کہ ایک تجربہ قرار دیا ہے۔
’’مقصدِ حیات‘‘ کو اگر ادب کے کسی خانے میں رکھا جائے تو یہ مذہبی تصوف، فلسفۂ اخلاق اور نفسیاتی بصیرت کے سنگم پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ مصنف نے کسی مکتبِ فکر کی تقلید نہیں کی بل کہ مختلف نظریات سے اخذ کرتے ہوئے ایک ایسا متوازن فکری قالب وضع کیا ہے جسے محض تصنیف کہنا انصاف نہیں ہوگا۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عابد ہاشمی نے اپنی کتاب میں خود کو نمایاں نہیں ہونے دیا۔ وہ قاری پر اپنی موجودگی مسلط نہیں کرتے۔ ان کی زبان میں اَنا کی بلند آہنگی نہیں بل کہ ایک معلمانہ ضبط ہے۔ وہ مخاطب کو فکری جبر کے بجائے غور کے لیے مائل کرتے ہیں۔
ان کے طرزِ اظہار میں کہیں کہیں وہ شائستہ سنجیدگی جھلکتی ہے جو کلاسیکی اساتذۂ فکر کی تحریروں میں دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ان کا اسلوب تقلیدی نہیں بل کہ جدید فکری اظہار کی جہتوں سے ہم آہنگ ہے۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ’’مقصدِ حیات‘‘ ایک ایسی کاوش ہے جسے نہ عقیدت کی عینک سے پڑھنا چاہیے نہ تنقید کے غصے سے۔ اسے سمجھنے کے لیے خاموشی درکار ہے کیوں کہ یہ کتاب قاری سے مکالمہ نہیں کرتی اسے غور میں لے جاتی ہے۔
عابدضمیر ہاشمی کی فکری کاوش کا یہ پہلو سب سے اہم ہے کہ وہ مطالعے کو تجربے میں بدل دیتے ہیں۔ ان کی تحریر اختتام پر نہیں رُکتی بل کہ قاری کے ذہن میں ایک اور آغاز کا احساس جگاتی ہے۔ یہی احساس ان کی فکری دیانت اور تصنیفی مہارت کی دلیل ہے۔

تحریر: صائم خان راستؔ
(ریڈیو براڈکاسٹر، شاعر و ادیب، ناول نگار)

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button