- Advertisement -

آج کی حوا

ایک افسانہ از ڈاکٹر عشرت ناہید

aaj ki hawa

آج کی حوا

اس دنیا میں وہ ابھی ابھی آئی تھی لیکن بہت جلد ہی اس نے یہاں کے طور طریقوں سے آگہی حاصل کر لی تھی ۔ اس دنیا کے رواج ایک زمانے سے یکساں چلے آ رہے ہیں ۔یہاں کا ماحول ہمیشہ ایک جیسا ہی رہتا ہے چاہے اس کے کسی بھی مقام کی سیر کر لی جائے ۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں ابن آدم کے حواسوں پر حو ا مستقل چھائی ہوئی تھی بلکہ ایسا لگتا تھا کہ ان غواصیوں نے جب علم کے سمندر میں غوطہ زنی کی اور سمندر کی تہہ میں جاکر جس گوہر نایاب کو حاصل کیا وہ صدف حوا ہی تھی ۔ یا یہ کہ انہوں نے بھی باوا آدم کی طرح حوا کی رفاقت کو ہی سکون دل و دنیا قرار دیا ۔فرق صرف یہ تھا باوا آدم نے حوا کے جسم کے ساتھ اس کی روح کو بھی تسکین کاسامان مانا تھا لیکن آج کا آدم صرف خوشبو کا عادی تھا وہ خوشبو کے حصار میں مسحور مسحور شاداں و فرحاں تھا تو حوا بھی کم نہ تھی اس نے بھی خوشبو یونہی نہیں بکھیری تھی اس نے بھی آدم کو ترقی کا زینہ بنا کر استعمال کرنا سیکھ لیا تھا ۔یہ خیال تھا اس کا اس دنیا کے بارے میں ۔
کچھ روز پہلے ا س کا ایسے ہی ایک عالمی میلے میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں اندرون اور بیرون ملک سے کئی عالم و دانشور آدم تشریف لائے ہوئے تھے وہ چونکہ اس ماحول کو سمجھ چکی تھی اس لیے ذرا محتاط رہنے کے ساتھ وہاں کا جائزہ لینے میں مشغول تھی ایک ابن آدم کی میلے کے منتظمین کے ساتھ بڑی سانٹھ گانٹھ تھی اس لیے وہ ہر وقت اونچی مسند پر براجمان نظر آرہے تھے ایک بنت حوا بھی مستقل ان کے ساتھ ساتھ تھیں ، تصاویر بنوا رہی تھیں اور بہت خوش بھی نظر آرہی تھیں شاید اب وہ کسی بڑے مقام کے لائق بن چکی تھیں ۔وہ مسکراتی رہی ان مناظر کو دیکھ کر ۔
ایک اور منظر بھی بڑا پیارا اور دلکش دکھائی دیا جس نے اسکی اس غلط فہمی کو کسی حد تک زائل کر دیا کہ وہاں صرف خوشبوﺅں کے بدن تھے کچھ پاکیزہ ارواح بھی تھیں جن تک چاہ کر بھی ابن آدم رسائی نہیں کر پارہے تھے کیونکہ اس نے ایک ایسی بنت حوا کو دیکھا جس کی روح پاکیزہ تھی اس نے اپنے گرد خود ہی ایک مضبوط لکشمن ریکھا کھینچ رکھی تھی اور کوئی راون اسے لانگھنے کی جرات نہیں کر پا رہا تھا البتہ لالچ ضرور دیا جا رہا تھا۔
ہوا یوں کہ ایک صاحب علم آدم جن کا بڑے دانشوروں میں شمار ہوتا تھا وہ بھی یہاں موجود تھے انہیں وہ بنت حوا بڑی پسند تھیں جیسے ہی انہیں اس بات کا علم ہوا کہ وہ بھی یہاں تشریف لا رہی ہیں بڑے سر شار سے نظر آنے لگے اور شدت سے ان کے منتظر بھی لیکن وہ محترمہ بھی اپنی قسم کی ایک ہی تھیں پہلے دن تو پہنچی ہی نہیں ،دوسرے د ن آئیں بھی تو ایک محافظ ساتھ لیتی آئیں ،انداز ایسا بے نیازانہ کہ کوئی ان کی طرف بڑھنے سے پہلے زرا رک کر سوچنے پر مجبور ہو جائے مگر چونکہ ان صاحب کی پہلے سے ان سے سلام دعا تھی باوجود محافظ کے خوف کے اتنے پر تپاک انداز میں خیر مقدم کیا کہ میزبان بھی شرمندہ ہو گئے۔ وہ صاحب چاہ رہے تھے کہ کیسے بھی چند لمحوں کے لیے ہی سہی ساتھ میسر آجائے مگر کوئی موقع ہی نہیں مل رہا تھا وہ ملول سے بیٹھے سوچ رہے تھے کہ ایک تو وہ آئی بھی ہیں اپنے بھائی کے ساتھ دوسرے اتنی دیر سے کہ وہ اپنے علم و ہنر کا جادو دکھا کر اسے متاثر کرنے سے محروم رہ گئے تھے ۔لیکن ان کی قسمت نے یاوری کی اور موبائل بج اٹھا نمبر دیکھتے ہی خوشی کی لہر ان کے چہرے پر دوڑ گئی وہ پروگرام سے متعلق کچھ جاننا چاہ رہی تھیں ۔۔۔۔۔ ان کی بات ادھوری ہی تھی کہ ادھر سے وہ خود بول پڑے کہ ایسا ہے کہ فون سے بات ممکن نہیں آپ ذرا ہال سے باہر آجائیے میں پوری تفصیل بتائے دیتا ہوں ۔
وہ باہر آئیں تب ان جناب نے انہیں پروگرام کی بابت بتایا بات مکمل ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“آپ کا مضمون رسالے افق میں پڑھا بہت ہی عمدہ لکھتی ہیں آپ ” ۔۔۔وہی تعریف کا حربہ
“شکریہ ”
“آجکل کیا کچھ لکھ رہی ہیں ۔آپ کیے افسانوں کے تو ہم شدت سے منتظر رہتے ہیں ”
وہ بلا وجہ بات کرنے کی غرض سے بات کیے جا رہا تھا
اس نے اصرار کیا “ذرا رکیے”چائے پی لی جائے ”
“نہیں میں چائے نہیں پیتی ”
“اوہ ”
“آپ کی واپسی کب کی ہے ´؟ ”
“آج ہی رات کی ٹرین ہے ۔”
“اچھا میں بھی آج ہی جا رہا ہوں ”
“کس ٹرین سے جا رہی ہیں آپ ؟ ” ۔۔آنکھوں میں کچھ امید کے دئیے ٹمٹمانے لگے تھے
“ممبئی پٹنہ سے ” اس کا جواب مختصر سا تھا
ارے واہ خوب اتفاق ہے میری بھی اسی سے واپسی ہے چلیے آپ کا ساتھ رہے گا خوب سفر کٹے گا ۔۔وہ بے طرح خوش نظر آرہا تھا اوروہ دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں کہ وہ بنا محافظ سفر کی عادی ہی نہیں۔
پھر ایک اور حوا کا سامنا ہوا جو اپنے ناز و انداز سے پہلے ہی کا فی شہرت حاصل کر چکی تھیں ۔ان کے گرد کئی ابن آدم منڈلا رہے تھے لیکن وہ بھی اپنی قسم کی تھیں بخوبی جانتی تھیں کہ کس کو کب اور کتنی گھاس ڈالنا ہے ، اور کونسی سیڑھی اونچائی کی طرف لے کر جانے والی ہے ،بس لہجے میں شہد گھولے اسی کی طرف نگاہ التفات وہ بھی بڑے بے نیازانہ انداز میں ۔ خیر شام ڈھلے تک وہ عالمی منظر نامہ کے عجیب عجیب نظاروں سے لطف اندوز ہوتی رہی ۔
۔۔۔۔۔ اس بار عجیب اتفاق تھا کہ کلاس روم میں صرف بنت حوا ہی نظر آرہی تھیں ابن آدم کا نام و نشان ہی داخلے کی فہرست میں نہیں تھا وہ بڑا گھبرایا ہوا سا تھا ایک تو اس کا نیا نیا تقرر دوسرے بنت حوا کا سامنا دراصل وہ ایک ایسے ماحول سے آیا تھا جہاں اسے کبھی کسی خاتون سے ہمکلام ہونے کا موقع ی نہیں ملا تھا سوائے گھر میں والدہ اور بہنوں کے ۔ ایک تو وہ بچپن سے ہی شرمیلی طبیعت کا تھا دوسرے گھر کا سخت پردے کا ماحول جہاں تمام قریبی کزنس بھی پردہ کرتی تھیں ایسے میں کلاس روم میں صرف طالبات کے ہونے پر اس کی یہ کیفیت جائز بھی تھی وہ جیسے ہی کلاس روم میں جاتا اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا خدا کی یہ مخلوق اسے عجیب سی لگتی جو بظاہر تو پوری طرح پردے میں پوشیدہ مگر دلوں میں طلاطم مچانے کی اہلیت سے بھی آراستہ۔ بمشکل و ہ اپنی حالت پر قابو پا کر لیکچر دیا کرتا دھیرے دھیرے اس میں اعتماد آنے لگا ا ب وہ کلاس میں اپنا لیکچر پورے اعتماد کے ساتھ دینے لگا تھا وقت بیتتا گیا کچھ دنوں سے اسے کلاس میں ایک نئی تبدیلی کا احساس ہو رہا تھا یا یوں کہیے کہ اس کی چھٹی حس اسے آگاہی دے رہی تھی کہ نقاب کے پردوں سے عیاں اتنی ساری آنکھوں میں سے دو آنکھوں کا دیکھنے کا انداز بدلا بدلا سا ہے وہ اسے نظر انداز کرنے لگا لیکن وہ لڑکی چونکہ شاگرد تھی اس کے ہر سوال کا جواب دینا اس کی ذمہ داری میں آتا تھا اس لیے بات کرنا ہی پڑتی تھی وہ اکثر خواہ مخواہ ہی اس سے بے تکلف ہونے کی بھی کوشش کرتی وہ مختصر انداز میں جواب دے دیتا لائبریری کے وقفے میں بھی اکثر وہ کوئی مسئلہ لیے چلی آتی ” ’سر یہ مقولہ سمجھ میں نہیں آ رہا دوبارہ سمجھا دیجیے پلیز “، یا پھر یہ کہ ” اس نظم کا میرا جائزہ درست ہے یا نہیں “اس وقت وہ اسے ہر ممکن ٹالنے کی کوشش کرتا مگر وہ بھی تو اپنی قسم کی ایک ہی تھی کسی طرح نہ ٹلتی جب تک اسے بات پوری طرح سمجھ نہ آجاتی ایک مرتبہ میں نے اس سے کہا کہ تم کلاس میں ہی سوال کر لیا کرو اس کا جواب تھا ۔
میں نے اسے پڑھا ہی ابھی ہے اور پرنسپل صاحب کا کہنا ہے کہ کسی بھی استاد سے کسی بھی وقت اپنی مشکل حل کروائی جا سکتی ہے ”
وہ خاموش رہ گیا کیا کہتا۔
ایسے ہی ایک دن وہ اس کے چیمبر میں آئی کچھ مشکلات سمجھیں اور پھر کہنے لگی سر مجھے اس ٹاپک کے نوٹس چاہیئے
اس نے فوری طور پر منع کردیا کیونکہ وہ اسٹوڈنٹس کو نوٹس دینے کا قائل ہی نہیں تھا اسے یہ طریقہ پسند نہیں تھا لیکن وہ بضد رہی کہ آپ مجھے نوٹس دیجیئے اس نے سختی سے اسے منع کیا اور اٹھ کر باہر جانے لگا تو وہ بھی اٹھی اور اس کے راستے میں کھڑی ہو گئی کہ
“جب تک نوٹس نہیں دینگے جانے نہ دونگی ۔ ”
اس کی اس نا زیبا حرکت پر وہ پسینے پسینے ہو گیا اسے ڈانٹ کر کہا کہ ” راستہ سے ہٹو یہ کیا بد تمیزی ہےَ ؟ ”
لیکن وہ ڈٹی رہی
وہ پریشان ہو گیا کہ اگر باہر سے گزرتا کوئی دیکھے گا تو کیا رائے قائم کرے گا۔
اسی خیال سے اس نے اس سے وعدہ کرلیا کہ ” اچھا ٹھیک ہے کل وہ اس کے لیے نوٹس لے آئے گا ©”
رات پر فون پر میسیج تھا کہ
“وعدہ یاد ہے نا آپ کو “( اوہ تو اس نے میرا نمبر بھی حاصل کر لیا )
اس نے اس کے میسیج کا کوئی جواب نہیں دیا سوچ رہا تھا کہ اس لڑکی کا کیا کروں کیسے اسے بے تکلف ہونے سے روکوں لیکن کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی عجیب بے بسی کی کیفیت تھی کہ اگر کسی سے ذکر کرتا ہے یا مشورہ طلب کرتا ہے تب بھی وہی بدنام ہو تا ۔ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں ہونگی ۔اس لڑکی کو تو جیسے کسی بات کا ڈر ہی نہیں تھا ۔ اسے غصہ آرہا تھا کہ آج کل کی یہ برقع پوش لڑکیاں بھی کتنی ہوشیار ہو گئیں ہیں اپنے ظاہری دکھاوے کے اندر چاہے کچھ بھی کرتی رہیں پوری مطمئین رہتی ہیں کہ ان پر تو کوئی الزام ہی نہیں آئے گا انہیں تو ہر کوئی پاکیزہ اور بے چاری سمجھے گا اب اس معاملے میں میں کتنی ہی صفائی دوں گا کتنی بھی دہائی دونگا کوئی میرا یقین نہیں کریگا کیونکہ ایک تو جوان دوسرا غیر شادی شدہ ہر کوئی کہہ دیگا کہ میں نے ہی اس لڑکی کو تنگ کیا ہوگا ۔ یا اللہ کس مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں ۔ اللہ سمجھے اس لڑکی کو وہ اسے بد دعائیں دینے لگا ۔
خیر دوسرے دن خاصی بد دلی کے ساتھ اسے نوٹس دے دئیے
کچھ دن چین سے گزرے کہ اس نے ایک نئی بات شروع کردی کہ ” سر آپ ہمارے گھر آئیے میری ممی آپ سے ملنا چاہتی ہیں ”
“کیوں ملنا چاہتی ہیں ”
“میں نے آپ کی اتنی تعریفیں جو کی ہوئی ہیں ”
پہلی بار ہی میں اس نے سختی سے انکار کر دیا اور کہہ بھی دیا کہ اس سے پڑھائی کے علاوہ کوئی فضول بات کرنے کی ضرورت نہیں تب وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگی۔
” سر میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں اور امی سے آپ کی قابلیت کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگیں انہیں گھر مدعو کرو تاکہ وہ بھی مل سکیں ۔ ”
اس نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس دن پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ کہیں اس لڑکی کو لے کر بے وجہ میرا ہی دماغ تو خراب تو نہیں ہو رہا ۔ لیکن جواب نفی میں ہی ملا ۔ کچھ دن سے وہ دیکھ رہا تھا کہ اس لڑکی کے رویے میں تبدیلی آگئی ہے ۔ وہ کلاس میں سنجیدگی سے لیکچر سنتی بے وجہ تنگ کرنے کے بہانے بھی ڈھونڈنا بند کر دئیے تھے امتحان قریب تھے شاید اس وجہ سے خیر۔اس نے یک گونہ سکون محسوس کرنے لگا تھا یہ اس کا آخری سمسٹر تھا اور اسے بڑا اطمینان تھا کہ وہ اب چلی جائے گی ۔
آج آخری امتحان تھا اس کی ایکزام ہال میں ڈیوٹی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی ضروری کام سے باہر چلاگیا تھا واپس آتے آتے بھی بہت دیر ہوگئی تھی ۔کیمپس سنسان پڑا تھا سب اسٹوڈنٹ جا چکے تھے وہ گنگناتا ہوا اپنے چیمبر میں پہنچا تو ایک لمحے کو ٹھٹھک گیا وہ ٹیبل پر سر رکھے بیٹھی تھی اس کی آنکھیں بند تھیں آواز دینے پر کوئی جواب نہیں وہ حیران پریشان کہ کیا کروں ۔ پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھا تھا وہی اس پر چھینٹا تو اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور پھر بند کر لیں ۔وہ بے حد پریشان پسینے پسینے ہو رہا تھا کہ یا خدا اس لڑکی کا کیا کروں ایسے ہی روم میں چھوڑ کر جاتا ہوں تو بھی غلط اور کسی سے کہتا ہوں تب بھی ہزار سوال کہ اس وقت تک لڑکی روم میں کیوں ؟ پیپر ختم ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ بیت چکا ۔ باہر جھانک کر دیکھا تو کاریڈور میں دور دور تک سناٹا تھا ۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ اس نے پھر اسے آواز دی تب تھوڑا سر اٹھا کر اس نے آنکھیں کھولیں ۔” کیا ہوا ہے تمہیں”
“سر مجھے چکر آرہے ہیں”
“لو پانی پی لو”
پانی پینے سے اس کی طبیعت تھوڑی بحال سی ہوئی
“تم اب تک یہاں کیا کر رہی تھیں گھر کیوں نہیں گئیں”
“آپ کا انتظار کر رہی تھی ملے بنا کیسے چلی جاتی” ۔اس کا لہجہ بدلنے لگا تھا اور آنکھوں کا انداز بھی
“او کے اب تم جا سکتی ہو ”
“نہیں مجھے اب بھی شدید چکر آرہے ہیں میں خود سے نہیں جا پا ﺅنگی”
“میں تمہارے لیے رکشہ بلوا دیتا ہوں ” اس نے کہا
“نہیں سر مجھ میں رکشہ تک بھی نہ جانے کی سکت نہیں ” کہتے کہتے اس کی آنکھیں دوبارہ بند ہونے لگیں اور اس نے سر پھر ٹیبل پر رکھ لیا اس پر غنودگی سی کیفیت طاری تھی اور اس پر غصہ کی۔
اف کیا کروں کیسی ناگہانی آفت آئی ہے۔
اسے پھر آواز دی ۔
“سر پلیز آپ مجھے گھر تک چھوڑ دیں ” اس نے ہلکا سا سر اونچا کرکے کہا اس کے لہجے میں التجا تھی
“میں !!!!وہ زور سے چیخا
پھر فورا ہی اپنی حالت پر قابو پاکر کہا ” میں کیسے جا سکتا ہوں ”
“سر پلیز ” کہتے کہتے وہ پھر ٹیبل پر ڈھے گئی
عجیب مصیبت تھی
اس نے کاریڈور میں جھانکا ۔ دائیں طرف دیکھا مسٹر اودے کے روم پر تالا پڑا تھا وہ شاید جا چکے تھے بائیں طرف میڈم رعنا کے روم پر تالا تو نہیں تھا لیکن دروازہ پورا کھلا ہوا بھی نہیں تھا شاید وہ اندر موجود تھیں ۔
وہ اسی پوزیشن میں آنکھیں بند کیے نڈھال سی ایک بازو ٹیبل پر پھیلائے اس پر سر رکھے تھی
وہ پھر دروازے پر گیا آس پاس دیکھا پلٹا پھر بڑی ہمت کر اسے گھر چھوڑنے کا ارادہ کیااور اس سے کہا چلو اٹھو میں ڈراپ کر دیتا ہوں
اس نے تھوڑی سی آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اسکی نگاہوں میں شکر گزاری تھی ۔
ٹیبل کا سہارا لے کر وہ کھڑی ہوئی لیکن پیر لڑکھڑائے وہ دوبارہ بیٹھ گئی
پھر اس نے کھڑے ہونے کی کوشش کی اس بار وہ ٹھیک سے کھڑی ہوگئی اور چلنے لگی دو تین قدم چل کر اسے شاید پھر چکر آئے اور وہ لڑکھڑا کر گرنے کو ہی تھی کہ اس نے اسے تھام لیا ، تھامتے ہی اس نے اپنے بازو اس کی گردن میں حمائل کر دئیے اور بے ہوش سی ہوگئی
اس کی حالت غیر ہونے لگی کیا کرتا اسے گود میں اٹھایا اور تیزی سے گاڑی کی طرف چل پڑا شکر تھا کہ کاریڈور میں اب بھی کوئی نہیں تھا لیکن ایسا مھسوس ہورہا تھا کہ اس کے چاروں طرف نگاہیں ہیں جو انہی کو دیکھ رہی ہیں اس نے تیزی سے گاڑی کا گیٹ کھول کر لڑکی کو پچھلی سیٹ پر لٹا دیا سیٹ پر لٹاتے ہوئے گردن پر اس کی گرفت کا اندازہ ہوا بڑی مشکل سے اس کے بازوﺅں کو ہٹایا اس دوران اس کا دل بہت تیز ی سے د ھڑک رہا تھا ۔ اپنی عزت کا خوف بھی تھا اور پہلی مرتبہ کسی لڑکی کے لمس سے آ ّشنا بھی ہورہا تھا دل کی حالت متغیر تھی ۔ تھوڑا آگے جا کر اسے آواز دی دو بار آواز دینے پر اس نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی پہلے نیم دراز سی ہوئی ، پھر پوری طرح بیٹھ گئی اور اسے گھر کا راستہ بتاتی رہی اس کی آواز میں نقاہت تھی گھر کے نزدیک آتے آتے اس پر پھر غنودگی سی طاری ہوگئی تھی اس کا گھر کیمپس سے کافی دور ایک پاش کالونی میں تھا ۔ دوپہر کا وقت سڑکیں سنسان تھیں گھر کی طرف اشارہ کرتے کرتے وہ پھر ہوش و حواس سے بیگانہ تھی اس نے پلٹ کر آواز دی کوئی جواب نہ پا کر گاڑی سے اترا اور گھر کی بیل بجائی۔
ایک معمر خاتون نے گیٹ کھولا اور سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھا
“وہ ۔۔۔وہ آپ کی بیٹی “اس کی زبان میں لڑکھڑاہٹ سی تھی
“کیا ہوا ہے میری بیٹی کو ” انہوں نے مشکوک نظروں سے میری طرف دیکھا
میں شرم سے پانی پانی ہو گیا
“کالج میں بے ہوش ہوگئی تھی ”
وہ دوڑ کر گاڑی کے قریب آئیں اور اسے پکارنے لگیں
“بیٹا اسے اندر لے آﺅ ”
وہ ہچکچا نے لگا تو بولیں
“بیٹا گھر میں کوئی ہے نہیں تم ہی اسے اٹھا لاﺅ”
ایک بار پھر اس کی گود میں تھی اس کے بازﺅں کی مضبوط گرفت پھر گردن پر تھی ، اس کا لمس ،اس کاگداز جسم اس کے بازوﺅں میں سمٹا تھا اس کے اندر ہلچل مچ رہی تھی ۔ بڑی مشکل سے اپنے جذبات پر اور دھڑکنوں کی بے ترتیبی پر قابو پا کر اسے صوفے پر لٹا یا پلٹا تو دم بخود رہ گیا کہ اس کی ماں کے چہرے پر خبیث سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی تب اس نے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا اس کی آنکھیں بھی کھلیں تھیں اور وہ بھی مسکرا رہی تھی ۔

ڈاکٹر عشرت ناہید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از ڈاکٹر عشرت ناہید