- Advertisement -

سفرهےاوربارهاسفرمیں یوں بھی هوگیا

فرانسس سائل کی ایک اردو غزل

سفرهےاوربارهاسفرمیں یوں بھی هوگیا
کسی کوڈهونڈتےهوئےکہیں میں آپ کھوگیا

غریب شہرتھا میں اورپڑاهواتھاراه میں
کوئی تو مُجھ په هنس دیا توکوئی مُجھ په روگیا

ابھی تو شام بھی نہیں ڈھلی هے ٹھیک طورسے
ابھی سے مُنه لپیٹ کر تمام شہر سو گیا

غُبارهوں وه راه کا هے جس نے آسماں چُھوا
چُھواهے آسماں تو کیا میں آسمان هوگیا

مزاج اُن کادیکھ کےپھرآج اُن کی بزم سے
جواُٹھ رهےتھے دوستومیں اُن کے ساتھ هو گیا

فرانسس سائل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو نعت ﷺ از خالد محمود خالد