یہ حقیقت تھی کہ میرے پیار کی تاثیر تھی
آنکھ کی پُتلی میں آویزاں تری تصویر تھی
کھو چکی ہے جو غبارِ مصلحت کی بِھیڑ میں
وہ تمنا ہی تو میری آخری جاگیر تھی
کون ہے جو اک نظر میں کرگیا پامال سب
میرے دل کی سلطنت ناقابل ِ تسخیر تھی
اک تلاطم شورش ِ جذبات کا شب بھر رہا
صبح دم زندان میں ٹوٹی ہوئی زنجیر تھی
وہ دمِ رخصت فقط خاموش تھا پر یاد ہے
اُس کے چہرے پر مری لا حاصلی تحریر تھی
لے گئ وارفتگی میں مجھ کو صحرا کی طرف
میرے شعروں میں چھپی جو حسرتِ تعمیر تھی
صائمہ دیکھا ہے میں نے حالتِ سکرات میں
ماں کو اپنے لاڈلے کی فکر دامن گیر تھی
سیدہ صائمہ کامران








