اردو شاعریاردو غزلیاتتیمور حسن تیمور

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست

تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست

یہ زمانہ ہے زمانہ ہے زمانہ مرے دوست

سامنے تو ہو تصور میں کہانی کوئی

اک حقیقت سے بڑا ایک فسانہ مرے دوست

میرے بیٹے میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوں

تم بڑے ہو کے مجھے دنیا دکھانا مرے دوست

دیکھ سکتا بھی نہیں مجھ کو ضرورت بھی نہیں

میری تصویر مگر اس کو دکھانا مرے دوست

کہنے والے نے کہا دیکھ کے چہرہ میرا

غم خزانہ ہے اسے سب سے چھپانا مرے دوست

تیری محفل کے لیے باعث برکت ہوگا

نا مرادان محبت کو بلانا مرے دوست

تم کو معلوم تو ہے مجھ پہ جو گزری تیمورؔ

پوچھ کر مجھ سے ضروری ہے رلانا مرے دوست

تیمور حسن تیمور

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button