اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
اس چپ میں بھی ہے جی کازیاں بولتے رہو

ہر یاد، ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ
یہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو

موج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیست
جس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو

اپنا لہو ہی رنگ ہے، اپنی تپش ہی بو
ہو فصل گل کہ دور خزاں بولتے رہو

قدموں پہ بار ہوتے ہیں سنسان راستے
لمبا سفر ہے ہمسفراں بولتے رہو

ہے زندگی بھی ٹوٹا ہوا آئنہ تو کیا
تم بھی بطرز شیشہ گراں بولتے رہو

باقیؔ جو چپ رہو گے تو اٹھیں گی انگلیاں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button