آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

طارق اقبال حاوی کی ایک اردو غزل

ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی
بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی

نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں
بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی

بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو
کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی

لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے
کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی

چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں
ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی

دیکھ کر ہونٹ تیرے کپکپاتے
میرا گُھٹنے لگا ہے دم دیوانی

ہمیں کہہ دو جو دل میں ہے تمہارے
بھرم رکھ لیں گے تیرا ہم دیوانی

طارق اقبال حاوی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button