آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران سیفی

چراغ دن میں جلا رکھا ہے

عمران سیفی کی اردو غزل

چراغ دن میں جلا رکھا ہے
یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے

خُدا کا بننے کا حکم تھا پر
خُدا کو اپنا بنا رکھا ہے

ابھی تو جاری ہے جنگ اس سے
کُمک میں کس نےعصا رکھا ہے

چراغ ڈرتا نہیں ہوا سے
بس احتیاطا بُجھا رکھا ہے

تُو کُچھ بھی کہہ لے یہی کہوں گا
اب ایسی باتوں میں کیا رکھا ہے

عمران سیفی

post bar salamurdu

عمران سیفی

میرا نام عمران سیفی ہے میں ڈنمارک میں مقیم ہوں پاکستان میں آبائی شہر سیالکوٹ ہے میرا پہلا شعری مجموعہ ستارہ نُما کے عنوان سے چھپ چکا ہے جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button