آپ کا سلاماردو نظمبشریٰ سعید عاطفشعر و شاعری

نیا سال مبارک

بشریٰ سعید عاطف کی ایک اردو نظم

ملیں قربتیں نئے سال میں
تُو رہے نہ رنج و ملال میں
ترا سال گزرے وصال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

دیے خواہشوں کے جلے رہیں
کھلے تھے جو پھول کھلے رہیں
ہوں محبتیں تری فال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

تجھے زندگی میں ملے نہ غم
تری آنکھ ہو نہ کبھی بھی نم
رہے ربّ کے فضل کی شال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

کوئی لمحہ ہو نہ جدائی کا
رہے بازو بن کے تُو بھائی کا
ہو ستارہ اُوجِ کمال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

جو نظر سے دور قریب ہوں
ترے ارد گرد حبیب ہوں
سَدا مطمئن رہے حال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

تُو ملا کرے ہمیں پیار سے
رہے گفتگو تری یار سے
تُو ستاروں کی نہ ہو چال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

کوئی کیجئے نہ نیا ستم
ہے یہ غصہ دشمنِ جاں صنم
کرو فیصلہ نہ اُبال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

تجھے قدر ہو مرے پیار کی
کرے بات تُو نہ ہزار کی
تُو جواب ڈھونڈ سوال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

تُو امیر بھی ہے بصیر بھی
بنے امن کا تُو سفیر بھی
رہے عزّتوں کی تُو شال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

ترے دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو
تری زیست کا یہ اصول ہو
پڑھے اُن ﷺ کی نعت خیال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

تُو جو مانگے بشریٰؔ ملا کرے
تجھے خوش نصیب خدا کرے
رہے تُو وفا کی مثال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں

بشریٰ سعید عاطف

post bar salamurdu

بشریٰ سعید عاطف

بشریٰ سعید عاطف ایک باصلاحیت اور ہمہ جہت پاکستانی شاعرہ ہیں جو اس وقت یورپ میں مقیم ہیں۔ وہ ادبی دنیا میں اپنی منفرد اور مؤثر آواز کے ذریعے ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری میں مشرقی احساسات اور مغربی تجربات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی بلکہ انسانی احساسات کی گہرائی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں شناخت، ہجرت، ثقافتی تنوع، اور روحانیت جیسے موضوعات ایک خوبصورت شعری توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ بشریٰ سعید عاطف کی تخلیقات میں پاکستان کی روایتی شعری فضا اور یورپ کے جدید فکری پسِ منظر کا امتزاج واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ فطرت کی خوبصورتی، انسانی رشتوں کی نزاکت، اور یورپی شہروں کی دلکشی کو اپنے اشعار میں نہایت لطیف انداز میں پیش کرتی ہیں۔ ان کی شاعری دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے — چاہے وہ وطن کی یاد ہو، محبت کی لطافت، یا زندگی کے فلسفیانہ پہلو۔ بشریٰ سعید عاطف نے نہ صرف آزاد نظم اور غزل میں اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ، دوہے، ٹپے، اور کلاسیکی و جدید نظم کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر صنف میں ان کی انفرادیت، زبان پر قدرت، اور جذبے کی شدّت نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت و محبت کا ایسا گہرا رنگ جھلکتا ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔ ان کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات کا سفر ہے — ایک ایسا سفر جو قاری کو سرحدوں سے ماورا کر کے انسانیت، محبت، اور روحانیت کی وسعتوں میں لے جاتا ہے۔ اپنی شاعری کے ذریعے وہ مشرق و مغرب کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کر رہی ہیں جو تہذیبی فاصلوں کو مٹاتا اور دلوں کو قریب لاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button