پاکستان بھارت میچ: کھیل یا سیاسی کشمکش
زاہد محمود خان کا ایک اردو کالم
حالیہ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ ہر لحاظ سے ایک سنسنی خیز مقابلہ تھا۔ دنیا بھر کے شائقین نے اس میچ کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ دیکھا، مگر میچ سے پہلے ایک ایسا لمحہ پیش آیا جس نے کھیل کے حسن پر سوال کھڑا کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا، اور امپائر بھی اس صورتِ حال میں مداخلت کرتے نظر آئے۔ بعد ازاں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے کھلاڑیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ روایتی انداز میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہاتھ نہ ملائیں۔
یہ واقعہ صرف ایک رسمی مصافحہ کا نہ ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ کھیل کی اس خوبصورت روح کے خلاف ایک قدم ہے جسے دنیا اسپورٹس مین اسپرٹ کے نام سے جانتی ہے۔ کھیل کا مقصد ہمیشہ نفرتیں مٹانا، دلوں کو قریب لانا اور لوگوں کو خوشی دینا رہا ہے۔ مگر جب کھیل میں سیاست شامل ہو جائے تو یہ محض کھیل نہیں رہتا بلکہ کھلاڑی بھی ایک دوسرے کے حریف سے بڑھ کر دشمن بنا دیے جاتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات تاریخی طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن کرکٹ ہمیشہ ان تعلقات میں ایک پل کا کام کرتی آئی ہے۔ کئی مواقع پر ہم نے دیکھا ہے کہ دونوں ممالک کے کھلاڑی میدان میں زبردست مقابلہ کرتے ہیں مگر کھیل کے بعد گلے مل کر، ہنسی مذاق کر کے دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کھیل دشمنی کے لیے نہیں، بلکہ بھائی چارے کے لیے کھیلا جاتا ہے۔
اگر حکومتیں اپنی پالیسیوں کے تحت کھلاڑیوں کو اس طرح کے رویے پر مجبور کریں گی تو سب سے زیادہ نقصان کھیل کو پہنچے گا۔ شائقین کھیل کو کھیل کی حد تک دیکھنا چاہتے ہیں، وہ میدان میں نفرت نہیں بلکہ مقابلہ چاہتے ہیں۔ اسپورٹس مین اسپرٹ کا تقاضا یہی ہے کہ آپ جیتیں یا ہاریں، لیکن ایک دوسرے کا احترام کریں۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کھیل کو کھیل رہنے دیں یا اسے سیاسی داؤپیچ کا شکار بنائیں۔ کھیل کی بقا اسی میں ہے کہ اسے کھیل کے دائرے تک محدود رکھا جائے۔ کھلاڑیوں کو نفرت کا نہیں بلکہ محبت اور رواداری کا پیغام دینا چاہیے۔ کیونکہ آخر میں ریکارڈز اور ٹرافیاں نہیں، بلکہ یادیں اور رویے ہی تاریخ کا حصہ بنتے ہیں۔
اسی لیے وقت آ گیا ہے کہ کرکٹ سمیت ہر کھیل میں سیاست کو ایک طرف رکھا جائے اور کھیل کو صرف کھیل کی نظر سے دیکھا جائے۔ کیونکہ کھیل وہی خوبصورت ہے جہاں دو حریف ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر دلوں میں ایک دوسرے کے لیے عزت رکھتے ہیں۔ یہی ہے اصل کرکٹ… یہی ہے اصل کھیل۔
یاد رکھیے: میچ ختم ہوتا ہے، مگر رویے تاریخ بن جاتے ہیں۔
زاہد خان







