- Advertisement -

تبدیلی کہاں پہنچی!

شیخ خالد زاہد کا اردو کالم

تبدیلی کہاں پہنچی!

تبدیلی ایک ایسا لفظ ہے جس کا براہ راست تعلق آپکی سوچ سے ہے۔ سوچ کی ترتیب آس پاس کے حالات و وقعات پر مبنی بھی ہوسکتی ہے اور سوچ بھی وراثت میں ملتی ہے یعنی خاندانی حالات آپکی سوچ کے ضامن ہوتے ہیں۔ کوئی اپنا دین بدلتا ہے تو اسے سوچنے کے زاوئیے کو یکسر تبدیل کرنا پڑتا ہے، بہت ممکن ہے کہ معاشرتی حالات کے پیش نظر اسکی نئی فکر اور جہد منظر عام پر نا آسکے۔بدلاؤ کے مختلف پیمانے ہوتے ہیں یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ ذہن میں بنے مختلف خانے ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دورِ حاضر میں رہنے والے انسانوں سے کہیں زیادہ وہ لوگ ذہین تھے جو انتہائی محدود وسائل کیساتھ زندگی کی گاڑی کو رواں رکھے ہوئے تھے اور مسلسل طبعی آسانیاں پیدا کرتے جا رہے تھے یقینا ان لوگوں کے دماغ میں موجود خانے زیادہ کھلے ہوئے تھے بانسبت آج کے دور میں رہنے والوں کے(یہ ایک الگ بحث ہے)۔کسی ایک دماغی حالت (state of mind)میں زندگیاں گزاری جاتی رہی ہیں بلکہ گزاری جارہی ہیں، یہ غلامی کی دلیل ہے کہ آپ ایک دماغی حالت میں پیدا ہوتے ہو اور اسی حالت کے تابع رہتے ہوئے گزر جاتے ہو کسی دوسری گزرگاہ پر قدم رکھنے کا سوچتے تک نہیں ہو۔ یہ دماغی حالت مذہبی بھی ہوسکتی ہے، یہ معاشرتی بھی ہوسکتی ہے، یہ کاروباری بھی ہوسکتی ہے اور دیگر بھی۔ ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ہمیں دیکھائی دیتا ہے کہ ایک خاندان جو ہماری شروع کی حدِ عمر سے کاروبار کر رہاتھا تو وہ کاروبار ہی کر رہا ہے اسکے گھر کے ہر فرد کی گفتگو کا محور کاروبار ہی ہوگا، ایسا ہی کسی مذہبی گھرانے کو لیجئے خصوصی طور پر جہاں بچے دینی تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو اس گھر کا ماحول میں اگر بتی کی خوشبو، اگربتی کے نا ہوتے ہوئے بھی محسوس کی جاسکتی ہوگی۔
حالات کو بہتر سے بہتر کرنے کیلئے قدرت نے بھرپور انتظام کیا اور ساتھ ہی حالات کے بدلاؤ سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے اپنے مقرب بندوں کو بھی بھیجا جو قدرت کی بنائی ہوئی کائنات سے اللہ کے بتائے گئے طریقوں سے انسانوں کو آگاہ کرتے رہے جنہیں ہم انبیاء، روسول اور نبیوں کے حوالوں سے جانتے ہیں۔ یہ تمام اپنے اپنے ادوار کے سب سے بڑے معلم، طبیب، ماہر فلکیات غرض یہ کہ جو علوم ہوسکتے تھے اسکے ماہر تھے کیونکہ انکے پاس علم خالق کائنات کی طرف سے براہ راست پہنچتا تھا، پھر اللہ رب العزت نے کائنات کے علم کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کو رحمت اللعالمین ﷺ کے مرتبے پر فائز کرتے ہوئے بقول اقبال ؒ کے نسخہ کیمیا قران حکیم فرقان مجید کا نزول فرمایا اور رہتی دنیا تک کیلئے ہدایت کا سرچشمہ کھول دیا۔ اس عظیم المرتبت کتاب میں علوم کا احاطہ کیا اور رہتی دنیا تک کیلئے حدوں کا تعین کردیا۔
آج ہم طبیب کی بات من و عن ماننے کیلئے تیار ہیں کیوں کہ ہمیں یہ دیکھائی دیتا ہے کہ اس کے پاس بیماری ہذا کا صحیح علاج کی سند موجود ہے، جو کہ اس نے دربدر کی خاک چھان کر حاصل کیا ہے۔ تبدیلی کیلئے یقین کا ہونا بہت ضروری ہے بصورت دیگر اسے دباؤ سمجھا جائیگا۔ تبدیلی بولنے میں تو معتبر بھی لگتا ہے، اس لفظ پر بھروسہ یا اصرار کرنے والے والے میں کسی خاص بات کی موجودگی کا ہونا یقینی ہوسکتا ہے۔ عام فہم میں دیکھا جائے تو ہرگزرتا لمحہ اس لفظ کی بہت خوبی سے ترجمانی کرتا دیکھائی دیتا ہے۔ ہم پاکستانی پتلون قمیض پہن کر اور اس پر کسی شوخ رنگ کی ٹائی لگا کر اپنے آپ کو تبدیل کرلیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ تبدیلی آگئی ہے۔ منتقلی اختیار و اقتدار کسی بھی درجے میں ہو کم ہی خوش اسلوبی سے انجام پاتے دیکھی جاتی ہیں۔ چھوڑنے والا یا منتقل کرنے والا ایک ساتھ انتقال ِ اختیار و اقتدار کے حق میں نہیں ہوتا اس کے برعکس جسے منتقل ہورہا ہوتا ہے اسکی ہر ممکن چاہ ہوتی ہے کہ بیک وقت سب کا سب منتقل ہو جائے تاکہ اسے کسی بات کیلئے دوبارہ جانے والے سے یا عہدہ برا ہونے والے سے رابطہ یا سامنا نا کرنا پڑے۔
تبدیلی کا منبہ علم ہے، تہذیبوں کو اٹھا کر پڑھ لیجئے جو تبدیلی کا بنیادی جز ملے گا وہ علم ہوگا جہاں جہاں علم کی ترویج بغیر کسی نفاق کے ہوئی وہاں ناصرف تبدیلی آئی بلکہ ترقی بھی ساتھ لے آئی۔ چنگیز خان نے ایک دریا عبور کرنے کیلئے بغداد کے سارے کتب خانوں سے کتابیں منگواکر دریا برد کیں اور اسکا پل بنا کر دریا عبور کیا گیا۔ اس سے یہ بات تو بہت واضح ہوجاتی ہے کہ اس دور کے مسلمانوں کے پاس علم سے لبریز کتاییں اور انکے رکھنے کیلئے کتب خانے تو بہت تھے یقینا ان علم کے چراغوں سے روشن ہونے والے دماغ بھی بہت ہونگے لیکن شائد یہ علم عمل سے عار ی ہوگیا تھا جو چنگیز خان جیسوں کی یہ مجال ہوئی کہ اس نے علم کی عظیم اماجگاہ کو ناصرف برباد کردیا بلکہ مسلمانوں کو تاریکی میں دھکیل دیا۔ بدقسمتی سے آج تک ہم اس تاریکی میں بھٹکتے پھر رہے ہیں، ہمیں جو روشن بھیک میں دی گئی اس روشنی میں جو دیکھا گیا وہ ہمارے اسلاف کی مسخ شدہ تہذیبوں کے لاشے تھے، ہمیں سوائے سرجھکانے کے اور کچھ نہیں کرنا تھا اور پھر ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اور کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ بارہا یہ بات دہرائی گئی کہ ہماری گردنوں میں دنیاوی آسائشوں کے طوق باندھ دئیے گئے جو کسی کھونٹے سے کم ثابت نہیں ہوئے۔
پاکستان اپنی متعدد خصوصی حیثیتوں کی وجہ سے ۴۱ چودہ آگست ۷۴۹۱ سے دنیا کی نظروں میں ایک خاص مقام بنائے ہوئے ہے۔ یہ خاص مقام زیادہ تر منفی ہے کیونکہ پاکستان کی جغرافیائی شکل دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے والوں کیلئے مشکلات کا سبب پیدا کرتی ہی چلی جارہی ہے۔ اس کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے داخلی حالات کبھی بھی بہترین مستحکم نہیں ہوسکے ہیں کبھی مذہبی، تو کبھی لسانی اور سب سے بڑھ کر بدعنوانیوں کے چنگل میں پھنستے ہی چلے گئے، بدعنوانی کا عنصر اتنا شامل ہوا کہ اس نے دیگر تمام امور پر اپنا رنگ چڑھا دیا یعنی پیسے نے سب سے سب کچھ کروانے کی اپنی اہلیت کوحکومت تک پہنچا دیا۔ پاکستان کا دولخت ہونا بھی دشمن سے مل جانے والوں کی سازشوں کا نتیجہ تھا۔ قدرت کی خاص کرم نوازی کے پاکستان اتنا زخم خوردہ ہونے کے باوجود بھی اپنی جگہ قائم رہا۔
موجودہ حکومتی سیاسی جماعت نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اور ملک میں ایک بار پھر نئی تحریک کی روح پھونک دی۔ عوام میں یہ شعور بیدار کرنے کیلئے ہر ممکن وسائل کو استعمال کیا جانے لگا اور بنیادی مقصد انصاف کی سستی، آسان اور یقینی فراہمی کو ممکن بنایا جائے جوکہ تاحال ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ جیساکہ درجہ بالا سطور میں دماغی کیفیت کی بات کی گئی تھی اس کا اس بات سے گہرا تعلق ہے کہ خاندانی سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگوں کو عوام کو کس طرح سے انکے قائدین کے اصلی کارنامے دیکھائے جائیں۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے ملک میں تبدیلی کیلئے سب سے پہلے نوجوانوں پر کام کرنا شروع کیا جو کسی ملک کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان میں جاننے کے شوق کو جو کہ پڑھ کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے کی جانب راغب کیا دوسری اہم بات یہ ہے کہ قیادت کو یہ علم ہے کہ مستقبل کو بہترین بنانے کیلئے عام آدمی کو اپنے ماضی کی خبر رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، اسے پتہ ہونا چاہئے کہ اسکے اسلاف نے ماضی میں دنیا میں دھوم مچا رکھی تھی تو یقینا وہ اس پر چلنے کیلئے دورِ جدید میں راہوں کو استوار کرنے کی کوشش کرینگے، جس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہوا کہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک روشن باب خلافت ِ عثمانیہ پر مبنی ترک زبان کے ڈرامے کی اردو ترجمے کیساتھ قومی چینل پر نشر کرنے کا حکم دیا گیا، یقینا اس ڈرامے کے اثرات نئی نسل پر ضرور پڑینگے اور پاکستان ایک دن بدعنوانوں اور بدعنوانی سے پاک ہوجائے گا۔
لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں لیکن انکے بنائے ہوئے راستے پر لوگ چلتے ہیں اور دنیا کو اس راستہ بنانے والے کی آنکھوں سے دیکھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ آج دیکھیں تو واضح دیکھائی دیتا ہے کہ حکومت مخالف جماعتوں کے پاس کوئی ایسا کلیہ نہیں بچا ہے جسے وہ حکومت کیخلاف استعمال کرسکیں۔ وزیراعظم عمران خان نے جہاں دیدہ لوگوں کی آنکھوں میں وہ حقیقت پرو دی ہے جب پاکستان ناصرف خطے میں بلکہ مسلم امہ میں انفرادی حیثیت سے متعارف کرایاجائے گا۔حقیقت میں عمران خان صاحب نے جس تبدیلی کی بات کی تھی وہ تو صحیح سمت اور صحیح راستے یعنی پاکستان کے حصول کے نعرے کی طرف پلٹنا تھا ہمیں غلط راستے پر منتقل کردیا گیا تھا جس کی عمران خان صاحب نے شناخت کی اور اس شناخت کی نشاندہی کرتے ہوئے عوام میں تبدیلی کی سوچ کا بیج بویا زمین زرخیز تھی بیج نے جڑیں پکڑ لی ہیں اب انتظار ہے کہ کب یہ پودا ایک بڑا درخت بن کر پاکستان کے حقیقی تصور کی پاسداری کیلئے میدان عمل میں آتا ہے اور ہر غدار کو کیفر کردار پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ہمیں بطور قوم ابھرنے کیلئے اپنی آنکھوں پر بندھی مختلف رنگوں کی پٹیوں کو اتارپھینکنا ہوگا تاکہ ہم وہ دیکھ سکیں جو دیکھائی دینا چاہئے، ہم اپنے آپ کو علم سے اتنا لیس کرلیں کہ کوئی ہمیں بھٹکا نا سکے اور ہمیں صحیح سمت میں پیش رفت سے روک نا سکے، یہ تبدیلی علم کی بدولت ہی ممکن ہے کہ ہم دشمن اور دوست کی تفریق کے محتمل ہوسکیں۔حالات و واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ تبدیلی کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ناصر ملک