آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفہیم شناس کاظمی

اس نے پوچھا بھی مگر

فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

اپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہم

زندگی دیکھ کہ احسان ترے کتنے ہیں

دل کے ہر داغ کو آئینہ بنائے گئے ہم

پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوں

جانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم

کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں نسبت تھی

کہ ابھی جل نہیں پائے کہ بجھائے گئے ہم

عمر بھر حادثے ہی کرتے رہے استقبال

وقت ایسا تھا کہ سینے سے لگائے گئے ہم

راستے دوڑے چلے جاتے ہیں کن سمتوں کو

دھوپ میں جلتے رہے سائے بچھائے گئے ہم

دشت در دشت بکھرتے چلے جاتے ہیں شناسؔ

جانے کس عالم وحشت میں اٹھائے گئے ہم

 

فہیم شناس کاظمی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button