- Advertisement -

Dekh To Dil Ke

An Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے

نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اک آسماں سے اٹھتا ہے

لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں
ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے

سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز
دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے

بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے

یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Afsaana By Ismat Chughtai