اردو غزلیاتشعر و شاعریفرزانہ نیناں

اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا
پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روتی کیوں ہے
شامِ گلشن کو نشہ بار ذرا کرنا تھا
تلخ لمحات نہیں دیتے کبھی پیاسوں کو
آسر ا دے کے ہمیں کچھ تو بھلا کرنا تھا
چاند پورا تھا اسے تکتے رہے یوں شب بھر
اپنی یادوں کا ہمیں زخم ہرا کر نا تھا
دونوں سمتوں کو ہی مڑنا تھا مخالف جانب
ساتھ اپنا ہمیں شعروں میں لکھا کرنا تھا
کرب سے آئی ہے نیناں میں یہ نیلاہٹ بھی
ضبطِ غم کا ہمیں کچھ فرض ادا کرنا تھا

فرزانہ نیناں

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button