وسعت ہے دل میں اتنی کہ صحرا خرید لوں
چاہوں تو تیری آنکھ سے دریا خرید لوں
میری محبتوں کو ہنسی میں نہ یوں اڑا
میں اپنے اک اشارے سے دنیا خرید لوں
سیرت کو چھوڑ تو میری صورت پہ بات کر
اتنا حسین ہوں کہ زلیخا خرید لوں
کیا کچھ نہیں خریدا ترے ہجر میں میاں
"وحشت، اداسی، خوف” میں کیا کیا خرید لوں
تو میرے حال پر نہ جا باطن کو میرے دیکھ
اتنی تونگری ہے کہ آقا خرید لوں
اتنی رسائی تو مری بھی ہے خدا کے ہاں
درویش تجھ سے تیرا یہ کاسہ خرید لوں
فیاض ڈومکی








