اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

چل سکے دل کے نہ ہمراہ نظر کے ساتھی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

چل سکے دل کے نہ ہمراہ نظر کے ساتھی
رہگزر ہی میں رہے راہگزر کے ساتھی

ہر کنارے کی طرف صورت دریا دیکھو
راستہ روک بھی لیتے ہیں سفر کے ساتھی

قافلے شور مچاتے ہوئے گزرے لیکن
اپنی دیوار سے آئے نہ اتر کے ساتھی

خشک شاخوں پہ سر شام جو آ بیٹھتے ہیں
وہی دو چار پرندے ہیں شجر کے ساتھی

چاک دامن کا گلہ کرتے رہے ہم باقیؔ
اور محفل سے اٹھے جھولیاں بھر کے ساتھی

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button