- Advertisement -

ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں

رانا عثمان احمر کی ایک اردو غزل

ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں
لوگ کم ظرف خرافات میں آ جاتے ہیں

تب خدا کی کسی حکمت پہ یقیں آتا ھے
جب ابابیل بھی عرفات میں آ جاتے ہیں

گھر کی دولت کو سر عام لٹا نے والے
باپ مرتا ھے تو اوقات میں آ جاتے ہیں

یاد بچپن کی ستا ئے تو سہولت کے لیے
تتلیاں دیکھنے باغات میں آ جاتے ہیں

اب بھی ماں باپ کے پرکھوں کو سلامی دینے
شھر کے لوگ مضافات میں آ جاتے ہیں

رانا عثمان احامر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
رانا عثمان احمر کی ایک اردو غزل