اردو غزلیاتاسماعیلؔ میرٹھیشعر و شاعری

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں

مجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں

جو تشریف لاؤ تو ہے کون مانع

مگر خوئے بد کو بہانے بہت ہیں

اثر کر گئی نفس رہزن کی دھمکی

کہ یاں مرد کم اور زنانے بہت ہیں

معطل نہیں بیٹھتے شغل والے

شکار افگنوں کو نشانے بہت ہیں

کرو دل کے ویرانے کی کنج کاوی

دبے اس کھنڈر میں خزانے بہت ہیں

نہ اے شمع رو رو کے مر شام ہی سے

ابھی تجھ کو آنسو بہانے بہت ہیں

ہوا میری روداد پر حکم آخر

کہ مشہور ایسے فسانے بہت ہیں

نہیں ریل یا تار برقی پے موقوف

چھپے قدرتی کارخانے بہت ہیں

بچے کیونکہ بے چارہ مرغ گرسنہ

بہ کثرت ہیں دام اور دانے بہت ہیں

بس اک آستانہ ہے سجدہ کے قابل

زمانہ میں گو آستانے بہت ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button