- Advertisement -

جب ہونٹوں پر تالوں نے دل چیر دیا

منزّہ سیّد کی ایک غزل

جب ہونٹوں پر تالوں نے دل چیر دیا
چہرہ دیکھنے والوں نے دل چیر دیا

کچھ تیرے الفاظ بھی نشتر جیسے تھے
کچھ تیرے متوالوں نے دل چیر دیا

لوگوں کی تو عادت ہے باتیں کرنا
بس تیری پڑتالوں نے دل چیر دیا

مدت بعد ہُوا جب گاؤں جانا تو
خالی گھر کے جالوں نے دل چیر دیا

مجبوری کا قصہ چل مَیں مان گئی
لیکن تیری چالوں نے دل چیر دیا

پیاس کی شدت نے مارا صحراؤں میں
اور پاؤں کے چھالوں نے دل چیر دیا

بھوکے بچوں کی نظروں میں پوشیدہ
کچھ معصوم سوالوں نے دل چیر دیا

منزّہ سیّد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل