- Advertisement -

یہاں پہ کوئی نہیں ہے مرے سوا مرے دوست

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

یہاں پہ کوئی نہیں ہے مرے سوا مرے دوست
بلاجھجک تُو مجھے کھل کے سب بتا مرے دوست

زمین ساری کی ساری مری نہیں مانا
مگر یہ پیڑ جو کرتے ہیں رابطہ مرے دوست

یہاں چراغوں نے جلنا ہے اپنی مرضی سے
یہاں پہ کرتی نہیں فیصلہ ہوا مرے دوست

ابھی سمجھ نہیں سکتا تو کثرت و وحدت
ابھی تُو عشق سے واقف نہیں ہوا مرے دوست

قدم قدم پہ لگا کوئی پیچھا کرتا ہے
اس ایک ڈر سے بدلتی تھی راستہ مرے دوست

عظیم دکھ تھا ترا چھوڑ کر چلے جانا
عجیب دکھ ہے تُو یاد آ نہیں رہا مرے دوست

تجھے میں ٹھیک سےسمجھا نہیں سکی دنیا
تجھے صلیب سے نیچے گرا دیا مرے دوست

تجدید قیصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل