- Advertisement -

Ek Rasta Ek Ghum

An Urdu Nazam By Farhat Abbas

اک رستہ اک غم

چاروں جانب پھیل گیا ہے
اک رستہ اک غم
جیسے کوئی دھیرے دھیرے
کھینچ رہا ہو دم
چاروں جانب
جہاں بھی جاؤں
ساتھ میں تیرا رستہ بھی آ جائے
جیسے ناری گَت لہرائے یا ناگن بل کھائے
یوں بھی نہ کوئی دل والوں کے تن من میں بس جائے
چاروں جانب
دِل سے تیرے دروازے تک تیری آس بچھی ہے
جہاں جہاں تک نظریں جائیں پیلی گھاس بچھی ہے
ساتھ میں اک رستہ ہے جس پر تیری باس بچھی ہے
چاروں جانب پھیل گیا ہے
آنکھوں میں کچھ آن بسا ہے مجھ کو ایسا لاگے
یا کوئی خواہش بل کھائے یا کوئی سپنا جاگے
یا تیرا رستہ ہے جاناں دل کے آگے آگے
چاروں جانب پھیل گیا ہے
اک رستہ اک غم
جیسے کوئی دھیرے دھیرے
کھینچ رہا ہو دم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
قرةالعین حیدر کا ایک اردو افسانہ