دن کے بارہ بج جائیں گے جب وہ لڑکی جاگے گی
کام ادھورے کرنے والی خواب مکمل دیکھے گی
موج میں آئی مست پہاڑن نیچے والی شاخوں سے
کچا سیب اتارے گی اور آدھا کھا کر پھینکے گی
عید سے ہفتہ پہلے ہی یہ شرطیں لگنے لگتی ہیں
کیسے بال بناۓ گی وہ کون سے کپڑے پہنے گی
اتنے لوگ کہاں آتے ہیں چھوٹے سے اس کمرے میں
یہ جو تازہ عشق کیا ہے کس کونے میں رکھے گی
یارا ایک ڈرامہ ہے اور کب سے دیکھ رہا ہوں میں
مجھ سے کھیلنے والی لڑکی تجھ سے کیسے کھیلے گی
اچھا خاصا وقت لگے گا ساجد کھڑکی کھلنے میں
ہم تو بوڑھے ہو جائیں گے جب تبدیلی آئے گی
لطیف ساجد







