اردو غزلیاتانور شعورشعر و شاعری

وہ لب میری نظر کے سامنے ہے

انور شعورکی ایک اردو غزل

وہ لب میری نظر کے سامنے ہے
گُلِ تر چشمِ تر کے سامنے ہے

دوامی زندگی کی کیا حقیقت
حیاتِ مختصر کے سامنے ہے

دریچہ باغ میں کھلتا تھا پہلے
اب اک بازار گھر کے سامنے ہے

بشر نے ہاتھ سے تعمیر کی ہے
یہ دنیا جو بشر کے سامنے ہے

شعور اپنی زباں سے کیا بتاؤں
سبھی کچھ شہر بھر کے سامنے ہے

انور شعورؔ​

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button