آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ محمود جامؔیشعر و شاعری

جوہرِ طین

شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل

سَرْگُزَشْتِ آدمِ خاکی کروں کیسے بیاں
ایک دشتِ خار زاراں ، ایک بحرِ بے کراں

مَوجْزَن اِس خاک میں ہے نسخہ ہائے دو جہاں
چشم بینو پر ہی ہوتا ہے ہُوَیدا یہ نہاں

عقل و بینش سے تَاَسُّف ہے تہی دامانِ دل
جو سمجھتا ہے فقط آدم کو قصہ، آب و گِل

تُو بَنا ہے وجہ فکرِ ساکنانِ آسماں
غیر ممکن ہے کہ ہو تُو، سنگ و خشت و ناتواں

نت نئی دنیا جو پیدا کر رہا ہے اب تلک
دیکھ اُس میں مُوجِدِ کونین کی کوئی جھلک

آدمیّت سے تجھے جس نے کرایا رُوشناس
تُو نے اُس کی آبروئے نَفْس کا رکھا ہے پاس؟

تُو مَبادا ہو نہ دو عالم میں سرگشتہ خوار
ہو کبھی اپنے کئے پر اے بشر تُو شرمسار

رازدان و محرمِ حق اصل میں ، انسان ہے
وجہ تخلیقِ دو عالم ، صاحبِ قُرآن ہے

جوہرِ توحیدیت کی جاں یہی تو ہے میاں
ترجمانِ حضرتِ یزداں یہی تو ہے میاں

آہ یہ پر تَو خداوندِ عظیم الشان ہے
عظمتِ انسان ہے یہ، عرش کا مہمان ہے

حضرتِ یزداں ہوئے خود ہمکلامِ آدمی
سرحدِ امکاں سے آگے ہے مقامِ آدمی

جوہرِ طین آدمِ خاکی تُو سمجھے خاکداں
یہ تو ہے جامؔی خدا کا شاہکارِ خاصگاں

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

post bar salamurdu

شاہ محمود جامؔی

نام ، راشد محمود - قلمی نام ، شاہ محمود جامؔی - قبیلہ ، بَنی ہاشم - تعلیم ، ایم اے اسلامیات - پیشہ ، درس و تدریس - تاریخ پیدائش ... 28.09.1980 - جائے پیدائش ... وڈیانوالہ سیالکوٹ پنجاب - ساکن ، وڈیانوالہ - سیالکوٹ پنجاب پاکستان -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button