اردو نظمسارا شگفتہشعر و شاعری

قرض

ایک اردو نظم از سارا شگفتہ

قرض

میرا باپ ننگا تھا
میں نے اپنے کپڑے اُتار کر اُسے دے دئے
زمین بھی ننگی تھی
میں نے اُسے
اپنے مکان سے داغ دیا
شرم بھی ننگی تھی
میں نے اُسے آنکھیں دیں
پیاس کو لمس دئے
اور ہونٹوں کو کیاری میں
جانے والے کو بو دیا
موسم چاند لئے پھر رہا تھا
میں نے موسم کو داغ دے کر چاند کو آزاد کیا
چتا کے دھُوئیں سے میں نے انسان بنایا
اور اُس کے سامنے اپنا من رکھا
اُس کا لفظ جو اُس نے اپنی پیدائش پر چُنا
اور بولا !
میں تیری کوکھ میں ایک حیرت دیکھتا ہوں
میرے بدن سے آگ دُور ہوئی
تو میں نے اپنے گناہ تاپ لئے
میں ماں بننے کے بعد بھی کنواری ہوئی
اور میری ماں بھی کنواری ہوئی
اب تم کنواری ماں کی حیرت ہو
میں چتا پہ سارے موسم جلا ڈالوں گی
میں نے تجھ میں رُوح پھونکی
میں تیرے موسموں میں چُٹکیاں بجانے والی ہوں
مٹی کیا سوچے گی
مٹی چھاؤں سوچے گی
اور
ہم مٹی کو سوچیں گے
تیرا انکار مجھے زندگی دیتا ہے
ہم پیڑوں کے عذاب سہیں
یا
دُکھوں کے پھٹے کپڑے پہنیں

سارا شگفتہ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button